اسلام اور خدمت خلق

اسلام اور خدمت خلق


اعجاز جعفر


پہلی قسط
ہر دور اور ہر سماج میں غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں، مریضوں اور دیگر محتاجوں کا ہونااگر چہ ایک فطری امر ہے تاہم گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ریاست جموں وکشمیر میں نامساعد حالات کی وجہ سے سماج کے ان کمزور طبقوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق ان تیس برسوں میں ایک لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے، جس کے نتیجے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بیواؤں کے روپ میں وجود میں آگئی۔ ہزاروں کی تعداد میں معصوم یتیم بچے شفقت پدری سے محروم ہوگئے، جسمانی اور ذہنی طور ناکارہ اور ناخیز افراد اس دھرتی پر اپنے آپ کو ایک بوجھ تصور کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دینے والے زکوٰۃ لینے والے بن گئے۔ اب صورتحال یہ ہوگئی کہ ہر طرف یتیموں کی آہیں ، بیواؤں کی سسکیاں، اور محتاجوں کی چیخ و پکار سنائی دے رہی ہے۔ شورش زدہ علاقوں میں جو طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے وہ جواں سال بیوائیں اور ان کے یتیم بچے ہیں۔ سماج کے اس طبقے کو زندگی بسر کرنے کیلئے محنت ومشقت اور بھیک مانگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مسلسل دباؤ اور پریشانی کے باعث خواتین اور بچے مختلف قسم کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کے شکار ہوچکے ہیں۔اس غیر معمولی صورتحال نے سماج کے ہر ذی حس اور باشعور فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان دکھیوں، لاچاروں اور متاثرین کی امداد کی جانی چاہے۔
اس وقت ریاست جموں وکشمیر میں اگرچہ بہت سارے رفاعی اور فلاحی ادارے اس طبقہ کو راحت پہنچانے میں وجود میں آچکے ہیں اور مختلف دینی جماعتوں کے بیت المال بھی حتی المقدور اس کام میں متحرک ہے ۔ تاہم موجودہ دور میں بیت المال کی اہمیت و افادیت اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔اگرچہ اس پر ایک الگ مضمون لکھا جائے تو بیجانہ ہوگا۔ ہمیں اپنے اپنے محلوں کے بیت المال کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا تبھی ہم ان بیکسوں اور لاچاروں کی مدد کر پائے گے ۔ اس وقت ہمارے سامنے ایک اچھی خاصی تعداد میں کنواری لڑکیوں کی تعداد موجود ہے جو شادی کی عمر کو پار گئی ہیں ۔

اسلام خدمت خلق کے تعلق سے ایک اعلیٰ اور ارفع تصور رکھتاہے، خدمت خلق کے تعلق سے اسلام انسانوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ قرآن و سنت نے خدمت خلق کو ایک اہم اور عظیم عبادت کے طور پر پیش کیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی تائید اور اسکے فضل وکرم کو بندوں کی خدمت خلق سے مربوط کیا۔
اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ۔
( مسلم شریف۔ 6853)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔
وَالَّذِيۡنَ فِىۡۤ اَمۡوَالِهِمۡ حَقٌّ مَّعۡلُوۡمٌ ۞ لِّلسَّآئِلِ وَالۡمَحۡرُوۡمِ ۞
( معارج۔ 24تا 25)
جن کے مالوں میں سائل اور محروم کا ایک حق مقرر ہے۔
اس آیت کریمہ میں سائل اور محروم مسلمان اور غیر مسلم دونوں ہوسکتے ہیں۔ بحیثیت انسان ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا عین تقاضائے اسلام ہے اور یہ چیز بھی مطلوب ہے کہ ایک مسلم اللہ کے عیال کے ساتھ ہمدردی سے پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :    أَطْعِمُوا الْجَائِعَ ، وَعُودُوا الْمَرِيضَ ، وَفُكُّوا الْعَانِيَ  ( بخاری ۔ 5649)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور مریض کی عیادت یعنی مزاج پرسی کرو اور قیدی کو چھڑاؤ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل جنت اور اہلِ جہنم کے مکالمے کی ایک تصویر کھینچی ہے کہ جنتی ان اہل دوزخ سے پوچھیں گے:

مَا سَلَـكَكُمۡ فِىۡ سَقَرَ ۞ قَالُوۡا لَمۡ نَكُ مِنَ الۡمُصَلِّيۡنَۙ ۞وَلَمۡ نَكُ نُطۡعِمُ الۡمِسۡكِيۡنَۙ‏ ۞
( مدثر ۔ 42 تا 44)
“تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی؟وہ کہیں گے “ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔
مولانا مودودی رح اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی انسان کو بھوک میں مبتلا دیکھنا اور قدرت رکھنے کے باوجود اس کو کھانا نہ کھلانا اسلام کی نگاہ میں کتنا بڑا گناہ ہے کہ آدمی کے دوزخی ہونے کے اسباب میں خاص طور پر اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ ( تفہیم القرآن)
اللہ تعالیٰ نے سورہ الحاقہ میں جہنمیوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

اِنَّهٗ كَانَ لَا يُؤۡمِنُ بِاللّٰهِ الۡعَظِيۡمِۙ ۞ وَلَا يَحُضُّ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِؕ ۞  ( الحاقۃ۔ 33 34)
یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھااور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔
یعنی خود کسی غریب کو کھانا کھلانا تو درکنار، کسی سے یہ کہنا بھی پسند نہ کرتا تھا کہ خدا کے بھوکے بندوں کو روٹی دے دو ۔ ( تفہیم القرآن)
ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دین صرف چند مراسم عبودیت ادا کردینے کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ کے بندوں کو مشکلات سے نکالنا،ان کے دکھ درد میں کام آنا ،ان کی خدمت کے ذریعہ رب کریم کو خوش کر نا بھی دین کا تقاضا ہے۔ عقائد وعبادات کے ساتھ اسلام نے اخلاق ومعاملات کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اخلاق ہی کا ایک نمایاں پہلو خدمت خلق ہے۔ یہ یاد رہے کہ اخلاق کی پستی انسان کو خدا اور خلق کی محبت سے محروم کردیتی ہے۔ اسلام کے نزدیک خدمت خلق عبادت ہے اور رب سے محبت کا اظہار بھی خدمت خلق کے جذبے سے ہی کیا جاتا ہے۔ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰہِ فَأحَبُّ الْخَلْقِ اِلَی اللّٰہِ مَنْ اَحْسَنَ الٰی عِیَالِہٖ۔

مخلوق الله کی عیال (کنبہ) ہے تو الله کو سب سے زیادہ محبوب وہ مخلوق ہے جو اس کے عیال ( کنبہ) کے ساتھ حسن سلوک کرے۔“
( بیہقی فی شعب الایمان بحوالہ تفہیم الحدیث۔ مولانا محمد یوسف اصلاحی)
یعنی جو شخص اللہ مخلوق سے محبت کرےانکے کام آئے انکی ضرورتیں پوری کرے، ان کے دکھ درد میں شریک ہو اور ان کے مسائل میں دلچسپی لے کر ان کے کام آئے اللہ تعالیٰ کی نظر میں یقینا وہ انسان سب سے زیادہ محبوب پونا ہی چائے۔ ( تفہیم الحدیث)
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نماز اور زکوٰۃ کا زکر بار بار ایک ساتھ کیا ہے نماز سے خدا سے براہِ راست تعلق قائم ہوتا ہے اور زکوٰۃ ادا کرنے سے بندگان خدا سے محبت پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:
يَسْلُوْنَكَ مَاذَا يُنْفِقُوْن۰ۥۭ قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَابْنِ السَّبِيْلِۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِيْمٌ
(سورہ بقرہ آیت نمبر 215 )

’’لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں جواب دیجئے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر،رشتہ داروں پر یتیموں اور مسکینوں اورمسافروں پر خرچ کرو۔اور جو بھلائی بھی تم کروگے اللہ اس سے باخبر ہوگا ‘‘۔
ڈاکٹر اسرار احمد اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:
تم جو بھی اچھا کام کرو گے تو جان لو کہ وہ اللہ کے علم میں ہے۔ ضرورت نہیں ہے کہ دنیا اس سے واقف ہو ‘ تمہیں اگر اللہ سے اجر لینا ہے تو وہ رات کے اندھیرے میں بھی دیکھ رہا ہے۔

سورہ نساء آیت نمبر 36 میں ایک ترتیب کے ساتھ اس بات کی بھی نشاندہی کردی گئی ہے وہ کون سے افرا د اور طبقات ہیں جو ہماری  ہمدردی اور اعانت کے مستحق ہیں ان میں ماں باپ اور رشتہ دار بھی ہیں،جن سے ہمارا خونی رشتہ قائم ہے اور ایسے یتیم ،مسکین ،ہم سایہ ، مسافر اور محکوم بھی آجاتے ہیں جن سے بہ ظاہرہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے۔اسلام نے دائرہ خدمت خلق اتنا وسیع کیا کہ افراد امت ہی نہیں بلکہ بلا لحاظ مذہب و ملت عام انسانوں کی بھی خدمت تاکید کی ہے۔قرآن کریم کی متعدد آیات میں خدمت خلق کے کاموں کی ترغیب دی گئی ۔ اسے نیک بندوں کی صفات میں شامل کیا گیاہے اور خدمت انسانیت میں غفلت برتنے کے سنگین نتائج کا بھی وہاں تذکرہ ملتا ہے۔سورہ ذاریات آیت نمبر 19،سورہ مدثر آیت نمبر 43٫44 سورہ معارج آیت نمبر 25 اورسورہ ماعون وغیرہ کے مطالعہ سے یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
کون ہے جو اللہ کے رحم و کرم کا محتاج نہیں ہے ، مگر اللہ تعالیٰ کا رحم و کرم اسی انسان پر ہوتا ہے جو دوسرے انسانوں کے کام آتا ہے، انکے ساتھ رحم و کرم کا معاملہ کرتا ہے۔رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ مَنْ لَا یَرْحَمُ لَا یُرْحَمُ۔
(مسند احمد: 11211)
جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا ، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
خدمت انسانیت کے بہت سے پہلو ہوسکتے ہیں ،اس کی کوئی محدود شکل نہیں ۔مالی تعاون کرنا ،قرض دینا ، روزگار فراہم کرنے میں مدد کرنا ،مظلوم کی قانونی، اخلاقی،اور معاشی مدد کرنا ،دینی کاموںمیں اپنی گاڑھی کمائی صرف کرنا۔ جس وقت اور جس ضرورت کے تحت ایک مسلمان دوسرے انسان کی مدد کرے گا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ ماجور ہوگا ۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن اللہ عزوجل فرمائے گا : آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری عیادت نہ کی ۔ وہ کہے گا : میرے رب! میں کیسے تیری عیادت کرتا جبکہ تو رب العالمین ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا ، تو نے اس کی عیادت نہ کی ۔ تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا ، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ، تو نے مجھے کھانا نہ کھلایا ۔ وہ شخص کہے گا : اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھانا کھلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا : تو نے اسے کھانا نہ کھلایا اگر تو اس کو کھلا دیتا تو تمہیں وہ ( کھانا ) میرے پاس مل جاتا ۔ اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا ، تو نے مجھے پانی نہیں پلایا ۔ وہ شخص کہے گا : میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جبکہ تو خود ہی سارے جہانوں کو پالنے والا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی مانگا تھا تو نے اسے پانی نہ پلایا ، اگر تو اس کو پانی پلا دیتا تو ( آج ) اس کو میرے پاس پا لیتا ۔ ( مسلم 6556)

انسان کو اپنی زندگی میں ترجیحات متعین کرنے چاہیے ۔ یعنی مسکینوں اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے دوسرے کام کرنا جو اس وقت کے تقاضے کے بالکل مخالف ہو۔

خلق خدا پر شفقت کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کے مخلوق کی خدمت کرنا اور انکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ان کی پریشانیوں کو دور کرنا اور ان کے لئے دوڈدھوپ کرنا افضل کام ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ  ( بخاری ۔ 5353)
بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔
مولانا منظور نعمانی نے اس حدیث پاک کی بہترین تشریح کی ہے۔

ہر شخص جو دین کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے ، جانتا ہے کہ راہِ خدا میں جہاد و جانبازی بلند ترین عمل ہے ، اسی طرح کسی بندے کا یہ حال کہ اس کی راتیں عبادت میں کٹتی ہوں اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتا ہو ، بڑا ہی قابلِ رشک حال ہے ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہی درجہ اور مقام ان لوگوں کا بھی ہے جو کسی حاجت مند مسکین یا کسی ایسی لاوارث عورت کی خدمت و اعانت کے لئے جس کے سر پر شوہر کا سایہ نہ ہو دورڑ دھوپ کریں ، جس کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود محنت کر کے کمائیں اور ان پر خرچ کریں ، اور یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو ان کی خبر گیری اور اعانت کی اطراف متوجہ کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کریں ۔
( معارف الحدیث ازمولانا منظور نعمانی)
یتیم کی کفالت اور سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنے والے کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی۔ فرمایا:
   أَنَا وَكَافِلُ الْيَتِيمِ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ    وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى۔
(ترمذی۔ 1918، ابوداؤد۔ 5150، مسند احمد- 9063، السلسلۃ الصحیحہ۔ 304)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں ان دونوں کی طرح ہوں گے اور آپ نے اپنی شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کیا“
سیرت کا نمونہ۔
سیرت کی کتابوں میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خلق کے حوالے سے بہت  سے واقعات درج ہیں۔بوڈھیا کا بوجھہ اٹھانا، جو عورت راستے میں کانٹے بجھاتی تھی اسکی عیادت کرنا اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنا ایسے بہت سے واقعات کتب سیرت میں درج ہیں اور ان واقعات میں ایک واقعے کی اہمیت خاص الخاص کے طور پر سیرت کی کتابوں میں تذکرہ کیا گیا کہ جب رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم پر غار حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم گھبراہٹ کی حالت میں گھر آئے اور حضرت خدیجہ رض کو پورا واقعہ سنایا اور حضرت خدیجہ رض آپ کو ڈھارس دیتی ہوئے فرماتی ہیں ۔ بقول نعیم صدیقی کہ:
” آپ کوئی ڈر محسوس نہ کریں مجھے معلوم ہے کہ آپ مصیبت زدہ کے ہمدرث، بے کسوں کے دستگیر، اقربا سے شفقت کا سلوک کرتے ہیں ، ہمیشہ سچ بولتے ہیں ، مہمان نوازی فرماتے ہیں، بیواؤں اور یتیموں پر رحم کرتے ہیں خدا آپ کو کبھی مبتلائے اندوہ ( رنج و غم) نہیں کریگا” ( سید انسانیت۔ نعیم صدیقی)
رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے محض زبان سے ہی۔ خدمت خلق کی تعلیم نہیں فرمائی بلکہ آپکی عملی زندگی خدمت خلق کی شاہد ہے ۔ بقول ماہر القادری
سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی
سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

صحابہ کا نمونہ
حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی انسانی خدمات تاریخ انسانی کا روشن باب ہیں۔ غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا، بیوہ عورتوں کی بکریاں دوہنا، بوڑھے اپاہج کا سالانہ وظیفہ متعین کرنا، اور صبح کے اندھیرے میں اندھی بوڑھی عورت کی خدمت کرنا آپ کا حسن عمل تھا۔ پھر حضرت عمر فاروقؓ ہیں جو غربا و مساکین اور
ضرورت مندوں کے لیے بیت المال سے نظم کررہے ہیں اور جنھوں نے بلا لحاظ مذہب اپاہج ،اندھے لنگڑے، معذور کے لئے وظائف متعین کیے۔ شہروں میں مہمان خانے تعمیر کروائے،کنویں کھدوائے،  جب عرب میں سخت قحط پڑا تو زبردست ریلیف کا کام کیا، راتوں میں گشت لگاکر رعایا کے احوال دریافت کئے۔حضرت عثمان غنیؓ کا پانی فروخت کرنے والے یہودی سے کنواں خرید کر سب کے لئے وقف کردینا تاریخ کا مشہور واقعہ ہے۔ اسکے علاؤہ دیگر صحابہ بھی خدمت خلق میں پیش پیش رہتے تھے اور اس معاملے میں سبقت لینے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔

وہ کتابیں جن سے استفادہ کیا گیا۔

1) تفہیم القرآن
2) بیان القرآن
3) الکوثر فی تفسیرِ قرآن
4) تیسر القرآن
5) بخاری شریف۔
6) مسلم شریف
7) ترمذی شریف
8) ابوداؤد
9) نسائی شریف
10) مسند احمد
11) السلسلۃ الصحیحہ
12) معارف الحدیث
13) تفہیم الحدیث
14) سید انسانیت۔ نعیم صدیقی
15) اسلام اور خدمت خلق۔ شیخ ولی محمد
16) زندگی نو شمارہ اپریل 2019

2 thoughts on “اسلام اور خدمت خلق

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: