بیماری ، دوا اور شفاء

اعجاز جعفر

تیسری ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا۔
(ابن ماجہ۔ 4042 )

یہ حدیث پاک ابن ماجہ میں درج ہے اس میں قیامت سے پہلے چھہ نشانیوں کی نشاندھی کی گئی ہے ۔

عوف بن مالک کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ غزوہ تبوک میں چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے، میں خیمے کے صحن میں بیٹھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عوف! اندر آ جاؤ ، میں نے عرض کیا: پورے طور سے، اللہ کے رسول؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پورے طور سے ، پھر آپ نے فرمایا: عوف! قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی، انہیں یاد رکھنا، ان میں سے

1 میری موت ہے ، میں یہ سن کر بہت رنجیدہ ہوا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو ایک،
2 بیت المقدس کی فتح ہے۔
3 ایک بیماری ہے جو تم میں ظاہر ہو گی اس کے ذریعہ اللہ تمہیں اور تمہاری اولاد کو شہید کر دے گا، اور اس کے ذریعہ تمہارے اعمال کو پاک کرے گا۔
4 تم میں مال کی کثرت ہو گی حتیٰ کہ آدمی کو سو دینار ملیں گے تو وہ اس سے بھی راضی نہ ہو گا۔
5 تمہارے درمیان ایک فتنہ برپا ہو گا جس سے کوئی گھر باقی نہ رہے گا جس میں وہ نہ پہنچا ہو۔
6 تمہارے اور اہل روم کے درمیان ایک صلح ہو گی، لیکن پھر وہ لوگ تم سے دغا کریں گے، اور تمہارے مقابلہ کے لیے اسی جھنڈوں کے ساتھ فوج لے کر آئیں گے، ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار فوج ہو گی ۔

بیماری اللہ کی طرف سے آتی ہے اور اس سے شفاء بھی اللہ ہی دیتا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ’’کہ۔۔

وَاِذَا مَرِضۡتُ فَهُوَ يَشۡفِيۡنِ ۞ شعراء 80
جب میں بیمار ہوتا ہوں وہ (اللہ) ہی مجھے شفاء دیتا ہے۔‘‘

‘ہر بیماری ‘ مرض اور مصیبت انسانی کی اپنی آوردہ اور پیدا کردہ ہے جب انسان اسلام کے احکام اور فطرت کے اصولوں سے رو گردانی کرتا ہے تو و وہ امراض اور مصائب کا شکار ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا

وَمَاۤ اَصَابَكُمۡ مِّنۡ مُّصِيۡبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتۡ اَيۡدِيۡكُمۡ
وَيَعۡفُوۡا عَنۡ كَثِيۡرٍؕ ۞
تم پر جب مصائب آ تے ہیں وہ تمہارے اپنے
ہاتھوں کے کرتوتوں کا بدلہ ہے اور بہت سے
باتوں کو تو اللہ در گزر فرمالیتا ہے ‘
(الشوری 30)
بحوالہ تبیان القرآن

بیماریوں کے علاج کے لیے مختلف طریقہ ہائے علاج مستعمل ہیں۔ انسان بیماری پہ قابو پانے کے لیے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس کے لیے نت نئی دوائیں استعمال کرتا ہے لیکن شفاء صرف اس وقت ملتی ہے جب اللہ کی طرف سے منظوری ہو۔ رسول پاک ﷺکا ارشاد ہے

’’إِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَضَعْ دَائً إِلَّا وَضَعَ لَہُ شِفَائً فَعَلَیْکُمْ بِأَلْبَانِ الْبَقَرِ فَإِنَّہَا تَرُمُّ مِنْ کُلِّ الشَّجَرِ۔ (مسند احمد: 7698)
۔ سیدنا طارق بن شہاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج پیدا کیا ہے، گائے کا دودھ لازمی طور پر استعمال کیا کرو،کیونکہ یہ ہر درخت سے چرتی ہے۔

دُعا میں شفاء

رسول پاکﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ’’ہر بیماری کے علاج کے لیے دوا ہے اور جب دوا کے اثرات بیماری کی ماہیت کے مطابق ہوتے ہیں تو اس وقت اللہ کے حکم سے مریض کو شفا ہو جاتی ہے۔‘‘ یعنی دوا کے ساتھ ساتھ شفاء کے لیے اللہ تعالیٰ کی رضا اور مہربانی کا شامل حال ہونا بہت ضروری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ دوا کے ساتھ ساتھ شفاء کے لیے اللہ سے لو لگائی جائے۔ اسی سے رحمت اور کرم کی دعا کی جائے۔
دن میں روزانہ کم از کم ایک دفعہ دو رکعت نماز صلوٰۃ الحاجات پڑھ کر اللہ سے عافیت، صحت اور سکون مانگیں۔ ان شاء اللہ سکون قلب بھی ہو گا اور بیماریوں سے نجات بھی۔
شکریہ ۔
اعجاز جعفر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: