“وہ زندہ تھا تو تیرا سہارا تھا اب تیری باری ھے”

اعجاز جعفر

اتفاق اور اتحاد میں برکت ہے پہلے کسی دور میں ہم اس طرح کی کہانیاں پڑھا کرتے تھے اب پتا نہیں کسی کو یاد بھی ہے یا بھول گئے دوبارہ پڑھ لیں شاید یاد آ جائے،
پرانے وقتوں کی بات ہے
کسی جنگل میں دو بیل رہتے تھے ۔ان میں بڑی دوستی تھی۔ وہ ہر مصیبت اور آفت کا مل کر مقابلہ کرتے اور آپس میں اتفاق اور محبت سے رہا کرتے تھے ۔ایک بار شیر نے ان پر حملہ کردیا مگر دونوں نے ملکر اسے ایسا مارا کہ شیر کو دم دبا کر بھاگنا پڑا
اس کے بعد پھر کسی دشمن کو ھمت نہ ہوئی کہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھے
اتفاق کی بات دیکھیے کہ اسی جنگل میں ایک لومڑی بھی رہا کرتی تھی, جو بڑی پھاپھا کُٹنی تھی, اسے بیلوں کی یہ دوستی اور محبت سخت ایک آنکھ نہ بھاتی تھی. وہ ہمیشہ اس ٹوہ میں رہتی کہ موقع ملے تو دونوں میں پھوٹ ڈالے
اس نے اندر ہی اندر کچھ ایسا چکر چلایا اور دونوں بیلوں کے کان ایک دوسرے کے خلاف کچھ ایسے بھرے کہ وہ ایک دوسرے سے بدظن ہوگئے
اور یوں ان کی دوستی کا رشتہ ٹوٹ گیا
اور اب وہ دوست کے بجائے ایک دوسرے کے مخالف اور دشمن بن گئے.. لومڑی اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئی
بیلوں کی اس نا اتفاقی کا علم کسی طرح شیر کو بھی ہوگیا
چنانچہ اس نے اپنی شکست کا بدلہ لینے کی ٹھانی۔ ایک دن موقع پا کر وہ شیر ادھر آ نکلا
اس نے آتے ہی ایک بیل پر حملہ کردیا
دوسرا بیل اپنے ساتھی کو بچانے کیلئے بلکل آگے نہ بڑھا
شیر نے اس کے ٹکڑے کیے اور کھا گیا دوسرا بیل اپنے سابقہ دوست کی بربادی پر دل ہی دل میں خوب راضی ھو رہا تھاکہیں سے ہاتھی کا گزر ہوا تو بیل سے اسکی خوشی کی وجہ پوچھی بیل نے اسے سب حال بتا دیا, تو ہاتھی نے کہا کہ:
“دوست کے مرنے پر خوشی نہ مناؤ اگلی باری تمہاری ہوگی “
بیل نے بڑ بڑاتے ہوئے کہا کیا اول فول بک رہے ہو
ہاتھی نے کہا کہ اس کی بربادی پر خوش نہ ہو وہ زندہ تھا تو تیرا سہارہ تھا اب تیری باری ہے, لیکن بیل کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
پھر کچھ دن بعد شیر جب اس پر جھپٹا تو یہ بھاگا اس وقت اس کے کانوں میں ہاتھی کے الفاظ گونج رہے تھے کہ:
“وہ زندہ تھا تو تیرا سہارا تھا اب تیری باری ھے”

پر اب پچھتانے سے کیا حاصل, آخر شیر نے جلد ہی اسے جا لیا اور اسے بھی چیڑ پھاڑ کر رکھ دیا
اسی طرح دونوں بیل اپنی نا اتفاقی کے باعث ہلاک ہوگئے

قرآن مجید میں بھی اتحاد و اتفاق کی تلقین کی گئی۔

وَاَطِيۡعُوا اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَتَذۡهَبَ رِيۡحُكُمۡ‌ وَاصۡبِرُوۡا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيۡنَ‌ۚ ۞ ( انفال 46)

ترجمہ:
اور اللہ اور اس کے رسُول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی صبر سے کام لو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے
اطاعت اللہ و رسول کا ایک خاص مفہو : وَاَطِيْعُوا اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۔ یہاں اللہ اور رسول کی اطاعت کے عام مفہوم کے سوا اس کا ایک خاص مفہوم بھی پیش نظر ہے۔ یعنی دشمن کے مقابل میں کامل نظم اور کامل ڈسپلن کا ثبوت دو ۔ جو حکم اللہ نے دیے ہیں ان کی بھی پوری اطاعت کرو اور جو حکم رسول دے اس کی بھی بےچون و چرا تعمیل کرو۔ جس طرح دل ذکر الٰہی سے محروم ہو تو اس میں انتشار برپا ہوجاتا ہے اسی طرح جماعت اگر اطاعت میں ڈھیلی ہو تو جماعت کا نظم درہم برہم ہوجاتا ہے اور پھر اس کی ہوا اکھڑ جاتی ہے۔
وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْهَبَ رِيْحُكُمْ ۔ اسی بات کو منفی پہلو سے واضح فرمایا کہ اللہ و رسول کے دیے ہوئے احکام سے اختلاف نہ کرنا ورنہ جماعت میں انتشار برپا ہوگا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے حوصلے پست ہوجائیں گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ یہی وہ ہدایت ہے جس کی غزوہ احد کے موقع پر ایک جماعت نے خلاف ورزی کی اور اس کا تلخ نتیجہ پوری جماعت کو بھگتنا پڑا۔ قرآن نے آل عمران میں اسی کا حوالہ دیا ہے۔ حتی اذا فشلتم وتنازعتم فی الامر و عصیتم من بعد ما اراکم ما تحبون : یہاں تک کہ جب تم حوصلہ ہار بیٹھے اور تم نے نبی کے حکم میں اختلاف کیا اور تم نے نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ نے تمہیں وہ چیز دکھا دی تھی جس کو تم عزیز رکھتے تھے۔ (ال عمران : 152) ۔
وَاصْبِرُوْا ۭ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ۔ وہی بات جو اوپر فاثبتوا کے لفظ سے فرمائی ہے یہاں واصبروا کے لفظ سے فرمائی ہے۔ البتہ اوپر والی بات افراد کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے اور یہ جماعت کو پیش نظر رکھ کر ارشاد ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی مدد و نصرت اور اس کی معیت کے طالب ہو تو اپنے جماعتی کردار سے اس کا استحقاق پیدا کرو۔ خدا منتشر بھیڑ کا ساتھ نہیں دیتا بلکہ ان لوگوں کا ساتھ دیتا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کے لیے بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔
تدبر قرآن

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الشَّیْطَانَ ذِئْبُ الْاِنْسَانِ کَذِئْبِ الْغَنَمِ یَأْخُذُ الشَّاۃَ الْقَاصِیَۃَ وَالنَّاحِیَۃَ فَاِیَّاکُمْ وَالشِّعَابَ وَعَلَیْکُمْ بِالْجَمَاعَۃِ وَالْعَامَّۃِ وَالْمَسْجِدِ)) (مسند احمد: 2463)
سیّدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مرو ی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے لیے اسی طرح کا بھیڑیا ہے، جیسے بکریوں کا بھیڑیا ہوتا ہے، جو دور جانے والی اور علیحدہ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے، پس تم گھاٹیوں سے بچو اور جماعت، عام مسلمانوں اور مسجد کو لازم پکڑو ۔

اہم نکات

ا۔ نزاع ہمیشہ اطاعت خدا و رسول کے مقابلے میں نفس پرستی سے پیش آتا ہے۔

۲۔ مسلمان ناکام اور کمزور، اطاعت و تنظیم کے فقدان کی وجہ سے ہیں۔

آخری بات۔

اتفاق اور اتحاد میں برکت ہے اور نا اتفاقی سے ہلاکت و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا..

اعجاز جعفر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: