تین کردار اور ان کا انجام

اعجاز جعفر

وَقَارُوۡنَ وَفِرۡعَوۡنَ وَهَامٰنَ‌ۖ وَلَقَدۡ جَآءَهُمۡ مُّوۡسٰى بِالۡبَيِّنٰتِ فَاسۡتَكۡبَرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ وَمَا كَانُوۡا سٰبِقِيۡنَ ۞

اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا اور موسیٰ ان کے پاس بینات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے
قارون
قارون قوم موسیٰ کا فرد تھا مگر اس نے اپنی دولت مندی کی وجہ سے ان سے بغاوت کی۔ اور اس نے نصیحت کرنے والوں کی یہ نصیحت نہ سنی کہ اعتدال اور تواضع کا راستہ اختیار کرو ، لوگوں پر احسان کرو اور سرکشی اور بغاوت نہ کرو۔اس کے برعکس اس نے دولت کو حق کی آواز کو دبانے کیلئے استعمال کیا زمین میں فساد برپا کرنے کیلئے استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا”
(القصص۔ 27)
مگر قارون نے ساری دولت کو اللہ تعالیٰ کی نعمت سمجنے کے بجائے اپنی قابلیت سمجھ کر اس کا غلط استعمال کیا۔ غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرنے بجائے مال کو گن گن کر رکھا اور وقت کے پیغمبر کے خلاف بھی استعمال کیا۔ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَھْلُ النَّارِ کُلُّ جَعْظَرِیٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَکْبِرٍ جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ۔( مسند احمد 13186)
ہر وہ آدمی جو بد مزاج ،متکبر ، مال و دولت جمع کرنے والا اور بخیل ہو، وہ جہنمی ہے۔
آخر کار جب قارون کی مہلت ختم ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس عذاب نازل کیا۔
فَخَسَفۡنَا بِهٖ وَبِدَارِهِ الۡاَرۡضَ فَمَا كَانَ لَهٗ مِنۡ فِئَةٍ يَّـنۡصُرُوۡنَهٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُنۡتَصِرِيۡنَ ۞ (القصص۔ 81)
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا۔
جس زمین پر وہ اپنے آپ کو سربلند سمجھتا تھا۔ جس کے اوپر وہ لوگوں پر ظلم کرتا تھا ۔ اللہ نے اسے اسی زمین کے اندر داخل کردیا۔ اور وہ ضعیف و ناتواں ہوگیا۔ نہ اس کی مدد کوئی دوسرا کرسکا اور نہ وہ اپنی جاہ و مال کے ساتھ اپنی کوئی مدد کرسکا۔

ہامان
ہامان فرعون کا وزیر تھا اور اس کی ان قاہرانہ اور ظالمانہ ریاستی پالیسیوں کی تنفیذ وہ کرتا تھا۔ فرعون کے تمام جرائم میں یہ اس کیلئے معین و مددگار تھا۔
اچھا وزیر ملنا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ (ابوداؤد۔ 2932)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ جب کسی حاکم کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے سچا وزیر عنایت فرماتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ اسے یاد دلاتا ہے، اور اگر اسے یاد رہتا ہے تو وہ اس کی مدد کرتا ہے، اور جب اللہ کسی حاکم کی بھلائی نہیں چاہتا ہے تو اس کو برا وزیر دے دیتا ہے، اگر وہ بھول جاتا ہے تو وہ یاد نہیں دلاتا، اور اگر یاد رکھتا ہے تو وہ اس کی مدد نہیں کرتا ۔
فرعون کی ظالمانہ پالیسیوں میں ہامان برابر کے شریک تھے، بنی اسرائیل کے بچوں کے خلاف قتل و غارت ہو یا ان کو غلامی سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کرنا اور ان کو ظلم کی چکی میں پسنے میں ہامان وزیر کی حیثیت سے برابر کے شریک تھے۔ ظالم اور اسکے معاون و مددگار کو اگر اللہ تعالیٰ دنیا میں ہی اسکے کرموں کا مزہ چکھاتا ہے۔

فرعون۔
اور فرعون ایک جبار اور سرکش حکمران تھا۔ اور قوم کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرتا تھا۔ اس نے ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا تھا اور پوری طرح کنڑول میں لے رکھا تھا۔ وہ بنی اسرائیل کے مردوں کو قتل کرتا تھا اور عورتوں کو زندہ رکھتا تھا۔ اور یہ محض ظلم کی وجہ سے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین حکمران وہ ہوگا جو ظالم و جابر بن بن کر لوگوں پر ظلم کرتا ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَقْرَبَہُمْ مِنْہُ مَجْلِسًا إِمَامٌ عَادِلٌ، وَإِنَّ أَبْغَضَ النَّاسِ إِلَی اللّٰہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَشَدَّہُ عَذَابًا إِمَامٌ جَائِرٌ۔(مسند احمد۔ 12040)
عادل حکمران قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہوگا اور وہ سب سے بڑھ کر اللہ کے قریب جگہ پائے گا۔ اور قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ سخت عذاب کا مستحق وہ حکمران ہوگا جو دنیا میں دوسروں پر ظلم ڈھاتا رہا۔

        فرعون نے ظلم و غرور کی تمام حدوں کو پار کیا اور یہاں تک کہ اَنَا رَبُّكُمُ الۡاَعۡلٰى تک کا دعویٰ کیا۔ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف اپنے تمام وسائل استعمال کیا مگر وہ ان تمام چالوں میں ناکام ہوا اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور اس کی قوم کو فرعون سے نجات دلائی اور فرعون کو اپنے لشکر سمیت دریا میں غرق کیا۔

تحریک اسلامی کو ختم کرنے کے لئے ہمیشہ سے یہی لوگ جن میں زیادہ تر مالدار طبقہ ، بیوروکریٹ ، اور وقت کے ظالم حکمران طبقہ متحرک ہوتے ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ان طاغوتی طاقتوں کے مقابلے میں اپنے بندوں کی مدد فرمائی ۔
فَكُلًّا اَخَذۡنَا بِذَنۡۢبِهٖ‌ ۚ فَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَرۡسَلۡنَا عَلَيۡهِ حَاصِبًا‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَخَذَتۡهُ الصَّيۡحَةُ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ خَسَفۡنَا بِهِ الۡاَرۡضَ‌ ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اَغۡرَقۡنَا‌ ۚ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيَـظۡلِمَهُمۡ وَلٰـكِنۡ كَانُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ يَظۡلِمُوۡنَ ۞ (العنکبوت۔ 40)
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا، پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا بھیجی، اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا، اور کسی کو ہم نے زمین میں دھسا دیا، اور کسی کو غرق کر دیا اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے

اہل ایمان کو ان واقعات کے ذریعے نصیحت کی گئی کہ وہ پست ہمت اور دل شکستہ و مایوس نہ ہوں اور مشکلات و مصائب کے سخت سے سخت طوفان میں بھی صبر و استقلال کے ساتھ حق و صداقت کا علم بلند کیے رکھیں، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ آخرکار اس کی مدد ضرور آئے گی اور وہ ظالموں کو نیچا دکھائے گا اور کلمہ حق کو سر بلند کردے گا، دوسری طرف یہ ان ظالموں کو بھی سنائے گئے ہیں جو اپنے نزدیک تحریک اسلامی کا بالکل قلع قمع کردینے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خدا کے حلم اور اس کی بردباری کا غلط مطلب لے رہے ہو۔ تم نے خدا کی خدائی کو اندھیر نگری سمجھ لیا ہے۔ تمہیں اگر بغاوت و سرکشی اور ظلم و ستم اور بد اعمالیوں پر ابھی تک نہیں پکڑا گیا ہے اور سنبھلنے کے لیے محض از راہ عنایت لمبی مہلت دی گئی ہے تو تم اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہاں کوئی انصاف کرنے والی طاقت سرے سے ہے ہی نہیں اور اس زمین پر جس کا جو کچھ جی چاہے بلا نہایت کیے جاسکتا ہے۔ یہ غلط فہمی آخر کار تمہیں جس انجام سے دوچار کر کے رہے گی وہ وہی انجام ہے جو تم سے پہلے قوم نوح اور قوم لوط اور قوم شعیب دیکھ چکی ہے جس سے عاد وثمود دوچار ہوچکے ہیں، اور جسے قارون و فرعون نے دیکھا ہے۔( تفہیم القرآن)

اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر یقین رکھے کہ:
وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏ ۞ (آل عمران۔ 139)
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: