نماز کی اہمیت و فضیلت دوسری قسط



اعجاز جعفر

عبادت دو چیزوں کا نام ہے محبت اور عاجزی۔ دل میں پہلے اپنے معبود کیلئے محبت پیدا ہوتی ہے اور پھر وجود اسکی عظمت کے سامنے جھک جاتا ہے۔پس عبادت کے معنی اللہ تعالیٰ سے انتہائی درجہ میں محبت رکھنا اور اسکے سامنے انتہائی درجے کی عاجزی اختیار کرنا ہے ۔عبادت دراصل دل کی بندگی کا نام ہے۔امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔
وَلعِبَادَۃُ اسمُ یَجمَعُ غَایَۃُ الحُبِّ لَہٗ وَغَایَۃَ الذُّلِّ لَہٗ۔
اور عبادت انتہائی درجے میں محبت رکھنے اور انتہائی درجے کی عاجزی اختیار کرنے کا نام ہے۔(صالح اور مصلح۔ صفحہ 151)
اگر نماز میں اللہ کی محبت اور عاجزی نہ ہو تو وہ بس کچھ رکوع اور کچھ سجدے ہونگے۔حصرت عبادہ بن صامت رض فرماتے ہیں:
اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس علم کے بارے میں بتلاؤ کہ جو لوگوں میں سب سے پہلے اٹھایا جائیگا۔ وہ خشوع ہے تم کسی ایسی مسجد میں جاو جہاں جماعت سے نماز ہورہی ہو اور تمہیں ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آئیگا جس میں خشوع ہو۔ (سنن ترمذی)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ الرَّجُلَ لَيَنْصَرِفُ وَمَا كُتِبَ لَهُ إِلَّا عُشْرُ صَلَاتِهِ تُسْعُهَا ثُمْنُهَا سُبْعُهَا سُدْسُهَا خُمْسُهَا رُبْعُهَا ثُلُثُهَا نِصْفُهَا ( ابوداؤد۔ 796)
آدمی ( نماز پڑھ کر ) لوٹتا ہے تو اسے اپنی نماز کے ثواب کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا اور آدھا ہی حصہ ملتا ہے ۔
اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جیسی ظاہری صورت، وقت اور مقام میں نماز پڑھنے کے باوجود ثواب میں فرق رہ جاتا ہے اور ثواب کا یہ فرق نماز میں انسان کے قلبی توجہ اور ذہنی یکسوئی میں اختلاف کی وجہ سے ہوتا ہے۔
نماز اور خشوع
نماز میں خشوع و خضوع کے موانع( Hindrances) دو قسم کے معلوم ہوتے ہیں۔ ایک خارجی اور دوسرے داخلی۔ خارجی رکاوٹوں کی مثالوں میں جیسا کہ شیطان ہے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابی نے نماز میں وساوس زیادہ آنے کی شکایت کی تو آپ نے کہا کہ یہ خنزب شیطان ہے ۔ بس نماز سے پہلے اللّٰہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔
خارجی رکاوٹوں کی مثال ہمارے دنیاوی ضرورت و حاجت ہوسکتی ہے اس کا علاج بھی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی کو نیند کا غلبہ ہو تو وہ پہلے نیند پوری کریں یا کوئی بھوکا ہو تو پہلے کھانا کھالے۔ مگر فرائض میں جماعت کی پابندی ہے اگر سنتوں اور نوافل بعد میں پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

نماز اور خیالات
نماز میں انسان کو جو خیالات آتے ہیں وہ اپنے موضوع کے اعتبار سے دو قسم کے ہوتے ہیں: ایک دینی اور دوسری دنیاوی۔
احسان کی اعلیٰ ترین صورت تو یہی ہے کہ انسان نماز میں دونوں قسم کی سوچ سے دور رہے اور اسکی سوچ اللہ کی خشیت اور اللہ کی محبت کے ساتھ صرف اسکی طرف یکسو ہو۔ منافقین کے بارے میں قرآن پاک کا ارشاد ہے۔
اِنَّ الۡمُنٰفِقِيۡنَ يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَهُوَ خَادِعُوْهُمۡ‌ ۚ وَاِذَا قَامُوۡۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوۡا كُسَالٰى ۙ يُرَآءُوۡنَ النَّاسَ وَلَا يَذۡكُرُوۡنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ ( النساء 142)
یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ در حقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کو دکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یاد کرتے ہیں.
اس آیت میں منافقین کی نماز اور انکے کردار پر روشنی ڈالی گئی کہ وہ نماز کیلئے سستی اور کاہلی کے ساتھ آتے تھے۔ نماز اسلام کا اہم ترین رکن ہے اور مومن اور کافر میں فرق کر نے کیلئے یہ ایک فوری امتیازی علامت ہے۔
نماز میں قرآن کی تلاوت کرتے کرتے کسی آیت پر غور کرنا یا جنت یا جہنم کی سوچ آنا خشوع وخضوع کے منافی نہیں ہے بلکہ دنیاوی سوچ ایسے آنا کہ نماز کا پتہ نہ چلا جائے تو ایسی سوچ کو قابو کرنا چاہے۔
تبلیغی جماعت کے بانی مولانا الیاس رح نے کہا کہ وہ نماز سے پہلے کچھ دیر کا مراقبہ کرتے تھے تاکہ نماز میں کامل یکسوئی حاصل رہے۔
نماز میں خیالات آنا کوئی عیب نہیں مگر خیالات کا غالب ہونا نماز میں نقص پیدا کرتا ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اکثر وبیشتر خیالات آتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کو نماز میں خیالات نہیں آتے ہیں میں اسکو کل سرخ اونٹ دونگا ۔ ابوبکر صدیق رض نے کہا یا رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نماز میں خیالات نہیں آتے۔ جب ابوبکر صدیق نماز کیلئے کھڑے ہوئے تو اسے سرخ اونٹوں کا خیال آیا۔
انسان اپنی سوچ کے اعتبار سے یا تو منتشر خیال ہوتا ہے یا یکسو ۔ منتشر خیال وہ ہے کہ ایک خیال ذہن میں آئے اور دوسرا جائے کبھی ادھر کی بات یاد آئے اور کبھی اُدھر کی بات۔ یکسو خیال یہ ہے کہ ذہن میں ایک ہی خیال حاوی اور غالب رہتا ہے۔ منتشر خیالات والے کو سخت مجاہدے کی ضرورت ہے اور یکسو خیال والے کو بھی اپنی نمازوں میں یکسو ہونا چاہے۔
عبادت کا ذوق پیدا کر دینے والے پانچ اعمال۔
پانچ اعمال ایسے ہیں کہ اگر آپ انہیں کچھ عرصہ معمول بنالیں چاہے چالیس دن ہی بنالیں تو وہ آپ کے اندر عبادت کا ذوق و شوق پیدا کرینگے۔
پہلا عمل۔ نماز کیلئے اذان دینا
دوسرا عمل ۔ نماز کیلئے پیدل چل کر جانا۔
تیسرا عمل۔ تکبیر تحریمہ کے ساتھ نماز پڑھنا۔
چوتھا عمل۔ پہلی صف میں نماز پڑھنا۔
پانچواں عمل۔ نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر و اذکار کرنا۔
اگر انسان پابندی سے ان کا اہتمام کریں تو اس عبادت میں ذوق وشوق پیدا ہوگا اور اسکی نماز بھی درست ہو جائیں گی اور جسکی نماز درست ہو جائیگی اسکی تمام عبادات بھی درست ہونگے۔

نماز نہ پڑھنے کا ہولناک انجام۔

کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا کَسَبَتۡ رَہِیۡنَۃٌ ﴿ۙ۳۸﴾اِلَّاۤ اَصۡحٰبَ الۡیَمِیۡنِ ﴿ؕۛ۳۹﴾ فِیۡ جَنّٰتٍ ۟ؕۛ یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿ۙ۴۰﴾عَنِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
مَا سَلَکَکُمۡ فِیۡ سَقَرَ﴿۴۲﴾قَالُوۡا لَمۡ نَکُ مِنَ الۡمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ۴۳﴾( مدثر ۔38تا 43)
ہر شخص اپنے اعمال کی پاداش میں پھنسا ہو اہے سوائے داہنے ہاتھ والے۔ یہ لوگ جنت میں ہونگے سوال کرینگے مجرموں کے بارے میں، کس چیز نے تمہیں جہنم میں لا ڈالا ، وہ جواب دینگے ہم نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔
يَوۡمَ يُكۡشَفُ عَنۡ سَاقٍ وَّيُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ فَلَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَۙ ۞
اس دن کو یاد رکھو جن ہلچل پڑے گی اور یہ لوگ سجدے کے لیے بلائے جائیں گے تو یہ نہ کرسکیں۔
خَاشِعَةً اَبۡصَارُهُمۡ تَرۡهَقُهُمۡ ذِلَّةٌ ؕ وَقَدۡ كَانُوۡا يُدۡعَوۡنَ اِلَى السُّجُوۡدِ وَهُمۡ سٰلِمُوۡنَ ۞
ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی۔ ان پر ذلت طاری ہوگی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب ہ صحیح سالم تھے۔
(سورہ القلم۔ 42_43)
قیامت کے روز علی الاعلان اس بات کا مظاہرہ کرایا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اس سے منحرف تھا۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ بجا لائیں۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزار تھے وہ سجدہ ریز ہوجائیں گے۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سر نیاز جھکانے سے انکار کردیا تھا ان کی کمر تختہ ہوجائے گی۔ ان کے لیے یہ ممکن نہ ہوگا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کرسکیں۔ اس لیے وہ ذلت اور پیشمانی کے ساتھ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے۔تفہیم القرآن۔
خدا کی پناہ یہ کیسی زبردست رسوائی ہوگی، حشر کے میدان میں حضرت آدم علیہ السلام سے لے آخری انسان تک پیدا ہونے والے سارے انسان جمع ہونگے، کوئی آؤٹ اور پردہ نہ ہوگا۔ بے نمازی جب اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ نہ کر پائے گے تو میدان حشر میں کتنی بڑی ذلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بندے کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی خدائی قانون کے تحت گزاریں ۔
اللہ تعالیٰ کی عبادت ہی مسلمانوں کا اولین فرض ہے اور عبادات میں نماز ہی اولین فرضیت کے زمرے میں شامل ہے ، اسلئے نماز ترک کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہوتا ہے یا کم از کم وہ فاسق کے ذمرے میں شامل ہوتا ہے۔اسکے علاوہ جو لوگ نماز و دیگر عبادات کی تضحیک کرتے ہیں انکے لئے بھی سخت وعید ہے۔
وَ اِذَا نَادَيۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوۡهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُون ۔
(سورہ مائدہ۔58)
جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔
اس آیت میں ان لوگوں کی پوزیشن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو نماز ، روزے، اور دوسری عبادات کو پسماندگی اور بجھڑے پن کی علامت سمجھتے ہیں اور اللہ کی عبادت کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام علماء و فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ نماز یا دوسرے ارکانِ اسلام کا مذاق اڑانے والا اور انکی فرضیت سے انکار کرنے والا خارج اسلام تصور کیا جائے گا۔ حدیث پاک میں اسکی تائید کی گئی ہے۔
بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ۔
( سنن ابن ماجہ 1078، مسلم 247، معارف الحدیث۔ 474)
سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اور کفر کے درمیان حد فاصل نماز کا چھوڑنا ہے ۔
البتہ جو شخص نماز کا منکر تو نہیں محض سستی اور کاہلی یا اپنی دنیوی مصرفیات کی وجہ سے نماز نہیں پڑھتا ہے اور اسے اپنی غلطی کا احساس بھی ہے تو اسکے بارے میں فقہاء کے درج ذیل اقوال ہیں۔
احناف کے نزدیک اسے فاسق سمجھا جائے گا اور اس وقت تک اسے مارا جائے گا جب تک وہ نماز نہ پڑھنے لگے اور ضرورت ہوئی تو اسے قید بھی کیا جاسکتا ہے۔
امام مالک اور امام شافعی کہتے ہیں وہ فاسق ہے کافر نہیں ۔ لیکن اگر وہ نمازیں چھوڑنے پر بضد رہے تو اسے مارنا پیٹنا اور قید کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اسے قتل کر دیا جائے۔
امام احمد بن حنبل کے نزدیک اسے مرتد تصور کیا جائے گا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اسکی گردن ماری جائے۔
فَاِنۡ تَابُوۡا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوۡا سَبِيۡلَهُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞ (توبہ ۔ 5)
ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ یقینا اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
یعنی کفر و شرک سے محض توبہ کرلینے پر معاملہ ختم نہ ہوگا بلکہ انہیں عملًا نماز قائم کرنی اور زکوٰۃ دینی ہوگی۔ اس کے بغیر یہ نہیں مانا جائے گا کہ انہوں نے کفر چھوڑ کر اسلام اختیار کرلیا ۔تفہیم القرآن
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگانے کی خواہش ظاہر کی جو با جماعت نماز ادا نہیں کرتے، اس شخص کا جرم تو اور بھی بھیانک ہے جو سرے سے نماز ہی نہیں پڑھتا۔
صحابہ رض بھی ترک صلٰوۃ کو کفر مانتے تھے چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مروی ہے کہ جس نے نماز نہ پڑھی وہ کافر ہے ، ابن عباس کا بھی یہی قول ہے ۔
علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ نماز نہ پڑھنے والوں کو نہ سلام کرنا چاہے اور نہ انکے سلام کا جواب دینا چاہے نہ اس سے اپنی بیٹی کی شادی کرنی چاہے۔
نماز کا معاملہ اتنا سنگین ہے کہ شریعت نے بھی اس کو معاف نہیں کیا۔ بیماری جنگ و دیگر مشکل حالات میں بھی نماز معاف نہیں اگرچہ کچھ رخصتیں ہے مگر کلی طور معاف نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نماز پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

3 thoughts on “نماز کی اہمیت و فضیلت دوسری قسط

  1. اسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
    آپ کی خدمت کو رب العزت قبول فرمائے
    آپ صاحب سے استدعا ہے کہ آپ کے کالم کے بلکل نیچے ایک عریاں ایڈ آ رہا ہے

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: