داعی کے تین ہتھیار

اعجاز جعفر

دین اسلام کا ایک داعی حق و باطل کی کشمکش کے ساتھ اسی وقت کامیاب ہو سکتا ہے اور ظلم وبربریت اور فتنہ وفساد کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں روشنی کا چراغ اسی وقت جلائے رکھ سکتا ہے جبکہ باطل کی اس پوری فوج سے لڑنے کے لئے اس نے اپنے آپ کو پوری طرح مسلح کر لیا ہو اور دشمن کے ہر حملے کا پوری قوت کے ساتھ جواب دینے کی پوزیشن میں ہو۔
باطل کے خلاف ایک داعی کیلئے ان تین ہتھیاروں سے اپنے آپ کو لیس کرنا ضروری ہے۔

ایمان کا اسلحہ۔

ایمان کے بغیر دوسرے تمام اسلحے بے کار ثابت ہوسکتے ہیں ۔ ایمان کوئی معمولی چیز نہیں جو صرف زبان سے دعوٰی کرنے کا نام ہے بلکہ صحیح معنوں میں ایمان اسی وقت قرار پاتا ہے جب کہ انسان کے رگ و پے میں سرایت کر جائے اور اس کی عملی زندگی اس کی شہادت پیش کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ الَّذِيۡنَ قَالُوۡا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسۡتَقَامُوۡا فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌ۚ ۞
(سورہ احقاف۔ 13)
یقیناً جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر اُس پر جم گئے، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے
اس آیت کی تفسیر میں مولانا تقی عثمانی صاحب رقمطراز ہیں۔
ثابت قدم رہنے میں یہ بات بھی داخل ہے کہ مرتے دم تک اس ایمان پر قائم رہے، اور یہ بھی کہ اس کے تقاضوں کے مطابق زندگی بسر کی۔
(آسان قرآن)
بہر حال اللہ پر ایمان لانے کے بعد استقامت یہی ہے کہ انسان کا دل اس سوچ پر جم جائے کہ اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور وہی حاجت روا ‘ وہی مشکل کشا ہے اور وہی میری دعائوں کا سننے والا ہے ‘ اور پھر انسان خود کو اللہ کے لیے وقف کر دے۔ ایک بندہ مومن کی اسی کیفیت کا نقشہ سورة الانعام کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے : { قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ } ”آپ ﷺ کہیے : میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔“
{ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ } ”تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔“
ایمان کی وضاحت اس حدیث پاک سے بھی واضح ہو جاتی ہے۔
عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ – وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ غَيْرَكَ – قَالَ:    قُلْ: آمَنْتُ بِاللهِ، فَاسْتَقِمْ۔ ( مسلم 159)
حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ( ابو اسامہ کی روایت میں ’’ آپ کےبعد ‘ ‘ کے بجائے ’’ آپ کے سوا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کہو : آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
“جم جاو” کا مفہوم یہ ہے کہ تم کبھی نظریہ توحید سے انحراف نہ کرو اور مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت میں سرگرم رہو اور اسکی نافرمانی سے ہمیشہ اور ہر وقت اجتناب کرو۔ بہرحال اگر ہمارا ایمان مکمل ہو اورایمان کے تقاضوں پر ہم پوری طرح کاربند رہے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں مغلوب نہیں کرسکتی اور اللّٰہ تعالٰی کا وعدہ برحق ہے۔
وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏ ۞ ( آل عمرآن ۔ 139)
دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

حسن اخلاق کا اسلحہ

داعی کیلئے یہ وصف لازمی ہو کہ وہ اخلاق عالیہ کا پیکر ہو اور یہ چیز اس کی فطرت ثانیہ بن چکی ہو ۔ اگر کسی شخص کے اندر صحیح معنوں میں ایمان جاگزیں ہو جائے تو اس کے اندر حسن اخلاق کا پایا جانا ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایمان کے ساتھ لازم و ملزوم کے طور پر پیش کیا۔
    أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا ( ترمذی1162)
”ایمان میں سب سے کامل مومن وہ ہے جو سب سے بہتر اخلاق والا ہو”
دین کے ایک داعی کیلئے حسن اخلاق کی اس اہمیت کے سلسلے میں اس سے بڑی بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ قرآن نے داعی اول صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب ہو کر فرمایا:
وَاِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيۡمٍ ۞
( سورہ القلم : 4)
اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔
اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا احسان جتاتے ہوئے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا خصوصی انعام قرار دیا :
فَبِمَا رَحۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنۡتَ لَهُمۡ‌ۚ وَلَوۡ كُنۡتَ فَظًّا غَلِيۡظَ الۡقَلۡبِ لَانْفَضُّوۡا مِنۡ حَوۡلِكَ‌ ۖ ۞ (آل عمران۔ 159)
(اے پیغمبرؐ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر کہیں تم تند خو اور سنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔

قیامت کے دن حسن اخلاق ہی میزان پر سب سے زیادہ بھاری ہوگا۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا شَيْءٌ أَثْقَلُ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ خُلُقٍ حَسَنٍ،۔
( ترمذی۔ 2002)
قیامت کے دن مومن کے میزان میں اخلاق حسنہ سے بھاری کوئی چیز نہیں ہو گی ۔
اخلاق ہی کی وجہ سے ایک انسان بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے ۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اِنَّ الرَّجُلَ لَیُدْرِکُ بِحُسْنِ الْخُلُقِ دَرَجَۃَ الصَّائِمِ الْقَائِمِ (وَفِی لَفْظٍ) دَرَجَاتِ قَائِمِ اللَّیْلِ صَائِمِ النَّھَارِ ۔
( مسند احمد 9159)
بیشک آدمی حسن اخلاق کے ذریعے رات کو قیام کرنے والے اور دن کو روزہ رکھنے والے کا درجہ پا لیتا ہے۔
ایمان کے ساتھ ساتھ ایک داعی کو حسن اخلاق کا پیکر ہونا چاہے اور یہی وہ وصف ہے جسکی طرف لوگ کھینچ کر آجائے گے اور باطل کے خلاف بھی یہ ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اور یہ ہتھیار جتنا مستحکم ہوگا باطل قوتیں اتنا ہی ہم سے خوف کھائے گے بصورت دیگر وہ کچا ہی چبائے گے۔

علم کا اسلحہ

روحانی اور اخلاقی ہتھیار کے پہلو بہ پہلو یہی فکری اسلحہ وہ تیسری چیز ہے جس کے ذریعہ اس معرکہ کو سر کیا جاسکتا اور اس مہم میں کامیابی
حاصل کی جاسکتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جو خود اندر سے خالی اور نور علم سے بے بہرہ ہوگا وہ دوسروں کو اس سے کیوں کر فیض یاب کرسکتا ہے جو خود خالی ہاتھ ہے وہ دوسروں کا کیا دے سکتا ہے۔
اسی لئے داعی کا علم اتنا گہرا ہو کہ جس پر اسے پوری طرح شرح صدر حاصل ہو ۔ سطحی واقفیت نہ ہو جس کی وجہ سے اس کے خیالات ہر وقت منتشر اور شکوک وشبہات کی آماجگاہ بنے رہیں۔ اسلام کی واقفیت اسے براہِ راست قرآن و حدیث سے حاصل ہو نہ کہ باطل پرستوں کے من گھڑت خیالات کی کوئی آمیزش ہو ۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
قُلۡ هٰذِهٖ سَبِيۡلِىۡۤ اَدۡعُوۡۤا اِلَى اللّٰهِ ۚ ‌عَلٰى بَصِيۡرَةٍ اَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِىۡ‌ؕ وَسُبۡحٰنَ اللّٰهِ وَمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ ۞
( سورہ یوسف۔ 108)
تم ان سے صاف کہہ دو کہ “میرا راستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں”
مولانا مودودی رح اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں۔
یعنی ان باتوں سے پاک جو اس کی طرف منسوب کی جارہی ہیں، ان نقائص اور کمزوریوں سے پاک جو ہر مشرکانہ عقیدے کی بنا پر لازما اس کی طرف منسوب ہوتی ہیں، ان عیوب اور خطاؤں اور برائیوں سے پاک جن کا اس کی طرف منسوب ہونا شرک کا منقطی نتیجہ ہے۔
پس دین کے ایک داعی کیلئے ناگزیر ہے کہ دینی علوم پر اسے گہری دسترس حاصل ہو۔ اس نے اسے اچھی طرح سمجھا ہو، ہضم کیا ہو ۔
اسکے بعد ہی وہ دینی فکر کو خالص اور بے آمیز طریقے پر پیش کر سکے گا ۔
مسلمانوں کو عمومی اور داعی کو خصوصی طور پر مطالعہ قرآن و دیگر کی طرف خاص دھیان دینا چاہے تبھی وہ دعوت دین کا کام احسن طریقے سے انجام دیں سکتا ہے ، کیونکہ مطالعہ کرنے سے ہماری تنگ نظری ختم ہو جائی گی اور ہم علم کے سمندر کو پاسکیں گے، علم و ثقافت ہی کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئے تھے مگر جونہی ہم اس سے غافل ہوگئے دنیا میں ہم امامت و سرفرازی سے معطل کئے گئے اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم پڑھتے نہیں اگر کبھی کچھ پڑھ بھی لیا تو سمجھتے نہیں اور نہ اس پر عمل کرتے ہیں۔ ہماری اس صورتحال کی بہترین عکاسی علامہ یوسف القرضاوی نے اپنی کتاب ” این الخلل؟؟ اردو ترجمہ بگاڑ کہاں؟؟) میں کی ہیں، فرماتے ہیں۔
ﺍﯾﮏ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻣﻔﮑﺮ ’’ ﻣﻮﺷﯽ ﺩﺍﻥ ‘‘ ﻧﮯ ‏( ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﻮﻡِ ﯾﮩﻮﺩ ﻧﮯ ﺳﺨﺖ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﯿﮟ ﻣﺬﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﻼﻣﺖ ﮐﯽ ﮨﮯ، ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﺑﻌﺾ ﺳﺎﺯﺷﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﻨﺼﻮﺑﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﮍﯼ ﺻﺮﺍﺣﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺧﺪﺷﮧ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﻋﺮﺏ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺍٓﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﻨﺼﻮﺑﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﯽ ﻣﻨﻈﺮ ﻋﺎﻡ ﭘﺮ ﺍٓﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‏) ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎ : ’’ ﺍٓﭖ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﻋﺮﺏ ﻗﻮﻡ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ !!‘‘ ﺗﻌﺠﺐ ﮨﮯ ﺍُﺱ ﻗﻮﻡ ﭘﺮ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍٓﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻄﺎﻟﻌﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ’’ ﺍﻗﺮﺍﺀ ‘‘ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮍﮬﻮ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﯾﮧ ﻗﻮﻡ ﭘﮍﮬﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﻓﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﺍﮔﺮ ﭘﮍﮪ ﮨﯽ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﻧﮩﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺧﺪﺍﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﺎﺭ ﻋﻤﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﮐﻮ ﺩﻭﺍﻣﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮐﮭﺘﯽ !!
داعی کیلئے ضرورت اس بات کی ہیں کہ وہ اسلام کے تمام مطالبات سے اپنے آپ کو بھرپور طریقے پر آراستہ کرنے کی کوشش کرے۔ تبھی جاکر اسکی بات میں لوگ وزن محسوس کرینگے۔
یہی تین ہتھیار ہے جس سے ہم باطل فوج کا مقابلہ کرسکیں گے۔
اعجاز جعفر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: