وٹامن “ص”

اگر آپ بھی صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اپنی خوراک میں ایسی چیزیں شامل کریں جن میں وٹامنز اور نمکیات شامل ہوں۔تاکہ آپ کے پورے جسم پر مثبت اثرات واضح نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ اور آپ کا جسم تندرست و توانا رہے۔ جس طرح جسم کو مضبوط رکھنے کیلئے ہم ہر مختلف وٹامنز کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح روح کو ترو تازہ رکھنے کیلئے بھی اسلام نے بہت سارے وٹامن تجویز کئے ہیں جن میں وٹامن ” ص ” کو خصوصیت حاصل ہیں۔ آئے جان لیجئے آخر یہ وٹامن ” ص ” کیا ہے۔

وٹامن ” ص ” ایک ایسا وٹامن ہے جو آپ کے روح کے ساتھ ساتھ آپکے جسم کو بھی ترو تازہ رکھتا ہے ۔ دن کے شروعات سے لیکر دن کے اختتام تک یہ وٹامن ” ص ” آپ کے روح کو صاف و شفاف کرتا ہے ۔ وٹامن ” ص ” آپ کے اندارج خدا پرستی اور انسان دوستی کی صفت کو پروان چڑھاتا ہے۔ یہ روح کو طاقت دینے والا ایک اہم ترین وٹامن ہے اپنے روز مرہ کی غذاؤں میں اسے لازماً شامل کریں ۔ تو آئے وٹامن” ص ” کے بارے میں مختصر بات کرتے ہیں۔ وٹامن” ص ” پانچ عبادات کا نام ہے۔

صلواۃ ( نماز )

اصل میں نماز ہی سے تمام نیکیاں نشو نما پاتی ہیں اور وہی اپنے حصار میں انکی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اگر نماز وجود میں نہ آئے تو دوسری نیکیاں بھی وجود میں نہ آسکتی اور اگر نماز ہدم کر دی جائے تو دین و اخلاق کا سارا چمن تاراج ہوجائے گا۔ اس لئے فرمایا گیا کہ جس نے نماز ضائع کی تو وہ باقی دین کو بھی بدرجہ اولی ضائع کردے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنۡهٰى عَنِ الۡفَحۡشَآءِ وَالۡمُنۡكَرِ‌ؕ ۞
یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے۔

نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصف ہے جسے موقع و محل کی مناسبت سے یہاں نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مکہ کے اس ماحول میں جن شدید مزاحمتوں سے مسلمانوں کو سابقہ درپیش تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں مادی طاقت سے بڑھ کر اخلاقی طاقت درکار تھی۔ اس اخلاقی طاقت کی پیدائش اور اس کے نشو و نما کے لیے پہلے دو تدبیروں کی نشان دہی کی گئی۔ ایک تلاوت قرآن، دوسرے اقامت صلوۃ، اس کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اقامت صلوۃ وہ ذریعہ ہے جس سے تم لوگ ان برائیوں سے پاک ہوسکتے ہو جن میں اسلام قبول کرنے سے پہلے تم خود مبتلا تھے اور جن میں تمہارے گردوپیش اہل عرب کی اور عرب سے باہر کی جاہلی سوسائٹی اس وقت مبتلا ہے۔ ( مولانا مودودی)

نماز دراصل نام ہے احساس بندگی کا، فرض شناسی کا، مشق اطاعت کا، خوف خدا کا، قانون الٰہی سے واقفیت کا، اجتماعیت کی مشق کا ۔ یہ پہلا وٹامن ہے جسے آپ نے دن میں پانچ مرتبہ دہرانا ہے وقت پر پابندی کے ساتھ۔

صوم ( روزہ )

حضرت امام ابن قیم روزوں کے اسرار ورموز یوں تحریر فرماتے ہیں :
     روزہ سے مقصو دیہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجہ سے آزاد ہوسکے ،اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہواور اس ذریعہ سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرسکے اور حیات ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کاتزکیہ کرسکے ،بھوک اور پیاس سے اس کی ہوس کی تیزی اور شہوت کی حدت میں تخفیف پیدا ہواور یہ بات یاد آئی کہ کتنے مسکین ہیں ،جو نان شبینہ کے محتاج ہیں ،وہ شیطان کے راستوں کو اس پر تنگ کردے ، اعضاء وجوارح کو ان چیزوں کی طرف مائل ہونے سے روک دے ،جن سے دنیا وآخرت دونوں کا نقصان ہے ،اس لحاظ سے یہ اہل تقویٰ کی لگام ،مجاہدین کی ڈھال اور ابرار ومقربین کی ریاضت ہے۔(زاد المعاد) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يٰٓـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الصِّيَامُ کَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَۙ (سورہ بقرہ ۔183)
اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کردیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیروؤں پر فرض کئے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی ،

اس آیت میں روزے کی اصلی غرض وغایت ظاہر ہوجاتی ہے ، یعنی تقویٰ جب ایک مومن اللہ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اللہ کی رضا کی خاطر روزہ رکھتا ہے تو اس کے دل میں تقویٰ کا شعور اجاگر ہوجاتا ہے۔ یہ تقویٰ ہی ہے جو دلوں کا نگہبان ہے اور جو انسان کو روزے کے احکام کی خلاف ورزی سے بچاتا ہے ۔ ( فی ظلال قرآن)

صبر

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی صبر و تحمل سے لبریز ہے، کسی موقع پر بھی آپ نے نفسانی جذبات کا استعمال نہیں کیا، غیظ و غضب اور وقتی معاملات سے طیش میں آکر کوئی بھی اقدام بلاشبہ ہزار مفاسد پیدا کرتا ہے؛ اس لیے ضرورت ہے کہ تمام شعبہ ہائے حیات میں صبر و تحمل سے کام لیا جائے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ  ۞ (آل عمرآن۔ 200)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ،141 حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو ، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے ؏
اصل عربی متن میں صابِرُوْا کا لفظ آیا ہے۔ اس کے دو معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کفار اپنے کفر پر جو مضبوطی دکھا رہے ہیں اور اس کو سربلند رکھنے کے لیے جو زحمتیں اٹھا رہے ہیں تم ان کے مقابلے میں ان سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔ دوسرے یہ کہ ان کے مقابلہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر پامردی دکھاؤ۔ تفہیم القرآن

رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:

وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ ، وَمَا أُعْطِىَ أَحَدٌ مِنْ عَطَاءٍ أَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ » (رواه ابو داؤد ، معارف الحدیث۔ 375)

اور جو کوئی کسی کٹھن موقع پر اپنی طبیعت کو مضبوط کر کے صبر کرنا چاہتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو صبر کی توفیق دے دیتا ہے (اور صبر کی حقیقت اس کو نصیب ہو جاتی ہے) اور کسی بندہ کو بھی صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی۔ (سنن ابی داؤد)

کسی بندے کو صبر سے زیادہ وسیع کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی “۔ واقعہ یہی ہے کہ ” صبر ” دل کی جس کیفیت کا نام ہے وہ اللہ تعالیٰ کی نہایت وسیع اور نہایت عظیم نعمت ہے، اسی لیے قرآن مجید کی آیت ” وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ” میں صبر کو صلوٰۃ یعنی نماز پر بھی مقدم کیا گیا ہے۔

صدقہ

صدقہ وہ ہے جو اللہ تعالی كی رضا وخوشنودی كے ليے ديا جاتا ہے اور يہ خالص عبادت ہے اس ميں كسی خاص شخص كا تعين نہيں ہونا چاہيے اور نہ اس كی جانب سے كوئی غرض ركھنی چاہيے، ليكن يہ صدقہ كے اہل مقام ميں ہونا چاہيے مثلا ضرورتمندوں كے ليے

صدقہ کی دو بنیادی اقسام ہیں→

1۔ صدقہ واجبہ

صدقہ واجب سے مراد ایسے صدقات ہیں جن کا ادا کرنا ہر صاحب نصاب پر بطور فرض لازم ہے۔ مثلاً زکات، عشر، خمس، صدقہ فطر وغیرہ

2۔ صدقہ نافلہ

جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی ضرورت سے زائد مال غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور فقیروں پر خرچ کرے وہ نفلی صدقہ میں شمار ہوگا۔ پس جو جتنا زیادہ خرچ کرے گا آخرت میں اس کے درجات بھی اتنے ہی بلند ہوں گے۔ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:

وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ۔ مسلم بحوالہ معارف الحدیث ۔ رقم الحدیث۔ 404

صدقہ دلیل و برہان ہے۔

اس دنیا میں صدقے کے برہان ہونے کا مطلب بظاہر یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اس امر کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ صدقہ کرنے والا بندہ مومن و مسلم ہے، اگر دل میں ایمان نہ ہو تو اپنی کمائی کا صدقہ کرنا آسان نہیں ہے۔ ” گر زر طلبی سخن درین است ” اور آخرت میں اس خصوصیت کا ظہور اس طرح ہو گا کہ صدقہ کرنے والے مخلص بندے کے صدقے کو اس کے ایمان اور اس کی خدا پرستی اور نشانی مان کر اس کو انعامات سے نوازا جائے گا۔

صلہ رحمی

صلہ رحمی سے مراد ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ اچھے اور بہتر تعلقات قائم کرنا، آپس میں اتفاق و اتحاد سے رہنا، دکھ، درد، خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلنا، آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا، ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا۔ الغرض اپنے رشتہ کو اچھی طرح سے نبھانا اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنا، ان پر احسان کرنا، ان پر صدقہ و خیرات کرنا، اگر مالی حوالے سے تنگدستی اور کمزور ہیں تو ان کی مدد کرنا اور ہر لحاظ سے ان کا خیال رکھنا صلہ رحمی کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

فَاٰتِ ذَا الۡقُرۡبٰى حَقَّهٗ وَ الۡمِسۡكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِ‌ؕ ذٰلِكَ خَيۡرٌ لِّلَّذِيۡنَ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَ اللّٰهِ‌ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ ۞ (الروم 38)


پس (اے مومن) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اُس کا حق) یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔ مولانا مودودی رح اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں:

یہ نہیں فرمایا کہ رشتہ دار، مسکین اور مسافر کو خیرات دے۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ یہ اس کا حق ہے جو تجھے دینا چاہیے، اور حق ہی سمجھ کر تو اسے دے۔ اس کو دیتے ہوئے یہ خیال تیرے دل میں نہ آنے پائے کہ یہ کوئی احسان ہے جو تو اس پر کر رہا ہے، اور تو کوئی بڑٰ ہستی ہے دان کرنے والی، اور وہ کوئی حقیر مخلوق ہے تیرا دیا کھانے والی۔ بلکہ یہ بات اچھی طرح تیرے ذہن نشین رہے کہ مال کے مالک حقیقی نے اگر تجھے زیادہ دیا ہے اور دوسرے بندوں کو کم عطا فرمایا ہے تو یہ زائد مال ان دوسروں کا حق ہے جو تیری آزمائش کے لیے تیرے ہاتھ میں دے دیا گیا ہے تاکہ تیرا مالک دیکھے کہ تو ان کا حق پہچانتا اور پہنچاتا ہے یا نہیں۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

تین صفات ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں بھی ہوں اللہ تعالی اس سے آسان حساب لے گا اوراسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کن(صفات والوں ) کو؟ آپﷺنے فرمایا: جو تجھے محروم کرے تو اسے عطا کر،جو تُجھ پر ظلم کرے تو اسے معاف کر،اور جو تجھ سے (رشتہ داری اور تعلق) توڑے تو اس سے جوڑ۔ صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ!اگر میں یہ کام کر لوں تو مجھے کیا ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: تجھ سے حساب آسان لیا جائے گا اور تجھےا للہ تعالی اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دے گا۔ (حاکم)

اِس کے برخلاف رشتہ ناطہ کو توڑدینا اور رشتہ داری کا پاس ولحاظ نہ کرنا اللہ کے نزدیک حد درجہ مبغوض ہے۔ نبی اکرم ﷺنے اِرشاد فرمایا کہ ” میدانِ محشر میں رحم (جو رشتہ داری کی بنیاد ہے) عرشِ خداوندی پکڑکر یہ کہے گا کہ جس نے مجھے (دُنیا میں) جوڑے رکھا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے جوڑے گا (یعنی اُس کے ساتھ انعام وکرم کا معاملہ ہوگا) اور جس نے مجھے (دُنیا میں) کاٹا آج اللہ تعالیٰ بھی اُسے کاٹ کر رکھ دے گا (یعنی اُس کو عذاب ہوگا)”۔ (بخاری 5989، مسلم 6519، الترغیب والترہیب 3832)

اعجاز جعفر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: