Mission milk

میں کل ٹی وی پر ایک پروگرام دیکھ رہا تھا جس میں پچھلے سال لاک ڈاون کے دوران گھر گھر راشن پہنچانے والے کچھ نوجوان( زیشان جاوید، زوفشان پاشا، شہزار شریف)کا ذکر کیا گیا جو بنگلورو کے رہنے والے تھے کہ کس طرح انہونے پچھلے سال مشکل حالات میں اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کی خدمت کی۔
ان نوجوانوں میں سے ایک نوجوان نے اپنے کام کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ ” پچھلے سال جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تو ہم نے دیکھا کہ غریب لوگ بھوک کے مارے تڑپ رہے ہیں، ہمارے دلوں میں آگ سی لگ گئی اور اسکے بعد ہم تین دوست اٹھے اور ہم نے لوگوں کی خدمت کیلئے ضروری اشیاء جیسے دال بسکٹ وغیرہ انکے گھر گھر پہنچانے کیلئے کمر بستہ ہوگئے، ایک دن کیا ہوا کہ جب میں ایک گھر میں راشن دینے کیلئے اندار داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک ماں دودھ کے بوتل میں دودھ کے بدلے بوتل میں پانی بھر کر بچے کو سلانے کی کوشش میں تھی اور بچہ بھی کیا پیتا روتا بلکتا ہوا بھوک سے نڈھال تھا ، تو اسکی ماں نے کہا بیٹا ہم تو دال وغیرہ تو کھا لینگے مگر بچوں کو کیا دینگے ۔ ماں تو ماں ہوتی ہے خود تو بھوکی رہے گی مگر بچے کو بھوکا رہنا گوارا کیسے کریگی۔
جب ہم نے یہ صورتحال دیکھی تو ہم نے ایک پروگرام بنایا اور اس پروگرام کا نام ” Mission milk ” رکھا اور ہم نے اب گھر گھر دودھ پہنچانے کی ٹھان لی، اسکے بعد ہم تین دوستوں نے اپنے اپنے جیبوں سے کچھ رقم جمع کی اور ہم نے ستر لیٹر دودھ کا انتظام کیا اور اس کو گھر گھر پہنچانے کی کوشش کی، اسکے بعد لوگ جڑتے گئے، ہمارا تعاون کرتے رہے، دور دور سے لوگ ہمیں امداد پہنچاتے رہے اور اس طرح آج ہم ہر گھر میں دودھ پہنچاتے ہیں اور جو کام محض ستر لیٹر دودھ سے شروع ہوا تھا اور آج ہم اسی کام کو بڑے پیمانے پر کرتے ہیں، اور ہمیں اس کام میں ایسی خوشی ملتی ہے جو خوشی دنیا کے عیش عشرت میں کہاں؟ ۔

اسکے علاوہ پروگرام میں دوسرے نوجوان جو پیشہ سے آٹو چلاتا تھا اور اس نے پیسہ جوڑ جوڑ کر اپنی شادی کیلئے جمع کئے تھے، مگر لاک ڈاون کی وجہ سے وہ اپنے جمع کئے ہوئے پیسوں سے محلے میں لنگر کا انتظام کرتا ہے تاکہ عوام فاقوں سے نہ مر جائے اور یہ کام تاحال قائم ہے۔

اس وقت کشمیر میں جو حالات بنے ہوئے ہیں اور پچھلے تین سالوں سے لوگ گھروں میں محصور ہے، ہماری معشیت انتہائی کمزور ہوچکی ہے، کاروباری ادارے زوال کے شکار ہونے کو ہے، مزدور طبقہ بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوچکا ہے اور اس سے بڑا تعلیم کا مسئلہ ہے عوام کو دو دو ہاتھوں لوٹا جارہا ہے اور عوام کو اسکول بند رہنے کے باوجود اسکول کا فیس اور اب ٹیوشن کا فیس بھی دینا پڑتا ہے ایسے میں غریب عوام جائے تو کہاں جائے۔
ایسے پر آشوب حالات میں ہمیں کھڑا ہونا ہے اور ہمیں غریب عوام کو ہر ممکن راحت پہنچانے کی کوشش کرنی چاہے۔

اسلام خدمت خلق کے تعلق سے ایک اعلیٰ اور ارفع تصور رکھتاہے، خدمت خلق کے تعلق سے اسلام انسانوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتا۔ قرآن و سنت نے خدمت خلق کو ایک اہم اور عظیم عبادت کے طور پر پیش کیا اور اللّٰہ تعالیٰ کی تائید اور اسکے فضل وکرم کو بندوں کی خدمت خلق سے مربوط کیا۔
اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ ۔
( مسلم شریف۔ 6853)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے ۔

خلق خدا پر شفقت کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کے مخلوق کی خدمت کرنا اور انکے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنا ان کی پریشانیوں کو دور کرنا اور ان کے لئے دوڈدھوپ کرنا افضل کام ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَوِ الْقَائِمِ اللَّيْلَ الصَّائِمِ النَّهَارَ  ( بخاری ۔ 5353)
بیواؤں اور مسکینوں کے کام آنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کے برابر ہے، یا رات بھر عبادت اور دن کو روزے رکھنے والے کے برابر ہے۔
مولانا منظور نعمانی نے اس حدیث پاک کی بہترین تشریح کی ہے۔

ہر شخص جو دین کی کچھ بھی واقفیت رکھتا ہے ، جانتا ہے کہ راہِ خدا میں جہاد و جانبازی بلند ترین عمل ہے ، اسی طرح کسی بندے کا یہ حال کہ اس کی راتیں عبادت میں کٹتی ہوں اور دن کو ہمیشہ روزہ رکھتا ہو ، بڑا ہی قابلِ رشک حال ہے ۔ لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک یہی درجہ اور مقام ان لوگوں کا بھی ہے جو کسی حاجت مند مسکین یا کسی ایسی لاوارث عورت کی خدمت و اعانت کے لئے جس کے سر پر شوہر کا سایہ نہ ہو دورڑ دھوپ کریں ، جس کی صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ خود محنت کر کے کمائیں اور ان پر خرچ کریں ، اور یہ بھی ہو سکتی ہے کہ دوسرے لوگوں کو ان کی خبر گیری اور اعانت کی اطراف متوجہ کرنے کے لئے دوڑ دھوپ کریں ۔
( معارف الحدیث ازمولانا منظور نعمانی)

کام کی ابتدا اپنی ذات سے۔

ایک انگریزی مقولہ ہے۔ charity begins at home یعنی خیرات اپنے گھر سے شروع کرو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞ ( الصف۔ 2)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟
خدمت خلق کے میدان میں ایک فرد سے لے کر، مسلم جماعتوں سے لے کر اور رفاعی و فلاحی اداروں کو مشن کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ غریبوں، مسکینوں اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنا ہمارا فرض منصبی ہے۔
ولسلام۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: