نیکی میں جلدی کرو


حدیث پاک کے راوی ابوہریرہ رض ہے کہ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ خَافَ أَدْلَجَ وَمَنْ أَدْلَجَ بَلَغَ الْمَنْزِلَ. أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ غَالِيَةٌ أَلَا إِنَّ سِلْعَةَ اللَّهِ الْجَنَّةُ۔ ( مشکوٰۃ۔ 5348)
جو شخص (رات کے آخری حصے میں سفر کرنے سے) ڈرتا ہو وہ رات کے ابتدائی حصے میں سفر کا آغاز کرتا ہے اور جو شخص رات کے ابتدائی حصے میں سفر کرتا ہے تو وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے ، سن لو ! اللہ کا سامان قیمتی ہے ، سن لو ! اللہ کا سامان جنت ہے ۔‘‘

ترمذی میں اس حدیث پاک کا ترجمہ اس طرح کیا گیا۔
”جو دشمن کے حملہ سے ڈرا اور شروع رات ہی میں سفر میں نکل پڑا وہ منزل کو پہنچ گیا آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان بڑی قیمت والا ہے، آگاہ رہو! اللہ تعالیٰ کا سامان جنت ہے“
ترمذی۔ 2450
یہ حدیث پاک مولانا منظور احمد نعمانی صاحب کی کتاب ” معارف الحدیث” میں بھی درج ہے اور اس حدیث پاک کی تشریح کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

“عرب کا عام دستور تھا کہ مسافروں کے قافلے رات کے آخری حصہ میں چلتے تھے، اور اس وجہ سے قزاقوں اور رہزنوں کے حملے بھی عموماً سحر ہی میں ہوتے تھے، اس کا قدرتی نتیجہ یہ تھا کہ جس مسافر یا جس قافلے کو رہزنوں کے حملے کا خوف ہوتا، وہ بجائے آخری رات کے شروع رات میں چل دیتا، اور اس تدبیر سے بحفاظت و عافیت اپنی منزل پر پہنچ جاتا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس مثال سے سمجھایا، کہ جس طرح رہزنوں کے حملہ سے ڈرنے والے مسافر، اپنے آرام اور اپنی نیند کو قربان کر کے چل دیتے ہیں، اسی طرح انجام کا فکر رکھنے والے اور دوزخ سے ڈرنے والے مسافرِ آخرت کو چاہئے کہ اپنی منزل (یعنی جنت) تک پہنچنے کے لئے اپنی راحتوں لذتوں اور خواہشوں کو قربان کرے، اور منزلِ مقصود کی طرف تیز گامی سے چلے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے بتلایا، کہ: بندہ اللہ تعالیٰ سے جو کچھ لینا چاہتا ہے، وہ کوئی سستی اور کم قیمت چیز نہیں ہے کہ یوں ہی مفت دے دی جائے، بلکہ وہ نہایت گرانقدر اور بیش قیمت چیز ہے، جو جان و مال اور خواہشاتِ نفس کی قربانی سے ہی حاصل کی جا سکتی ہے، اور وہ چیز جنت ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے۔ إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ الاية۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان سے اُن کے جان و مال جنت کے عوض میں خرید لئے ہیں، وہ اپنا جان و مال اللہ کی راہ میں قربان کر دیں تو جنت کے مستحق ہوں گے، گویا جنت وہ سودا ہے جس کی قیمت بندوں کا جان و مال ہے”۔

ترمذی شریف میں اس حدیث پاک پر ایک مختصر حاشیہ ان الفاظ میں درج ہے۔
” یہ ایک مثل ہے جو ان لوگوں کے لئے بیان کی گئی ہے جنہوں نے آخرت کے راستے کو اپنا رکھا ہے اور اس پر گامزن ہے، کیونکہ شیطان ایسے لوگوں کو بہکانے کے لیے اپنے تمام ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔اس لئے اس راہ پر چلنے والے اگر شروع ہی سے بیدار رہے اور پورے اخلاص کے ساتھ عمل پر قائم رہے تو ایسے لوگ شیطان کے مکر اور اسکی چال سے محفوظ رہیں گے”۔

۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: