نکاح کیلئے عجیب شرط

سارہ اب دھیرے دھیرے بڑی ہو رہی ہے اور اب انکی عمر شادی کو پہنچ چکی ہے اور ماں باپ کو بھی اب سارہ کی شادی کی فکر ستا رہی ہے وہ اس کے لئے اچھا سا لڑکا ڈھونڈنے لگی، کہی رشتے آئے اور گئے مگر سارہ کو کوئی لڑکا پسند نہیں آیا کیونکہ سارہ نے شرط ہی ایسی رکھی تھی کہ لڑکا ملنا مشکل بن گیا اور اس شرط کی وجہ سے سارہ کی عمر بھی اب دھیرے دھیرے ڈھلنے لگی اور یوں اسکی عمر چالیس کے پار چلی گئی مگر وہ اپنی شرط سے پیچھے ہٹنے والی نہیں ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم شادی کیلئے ایسی شرطیں رکھتے ہیں کہ پھر ہماری شادی ہونا ناممکن بن جاتا ہے ۔ اسلام نے ہمیں ہر معاملہ میں اعتدال سے کام لینے پر ذور دیا ۔اسلام دین اعتدال ہے اس کی پاکیزہ تعلیمات میں حسن وجمال ہے ، جن کے مطابق بلاکم وکاست عمل ہی میں دنیا وآخرت کی کامیابی وکامرانی کا راز مضمر ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایک دن سارہ میرے دکان پر پر اور کہا ہم اپنے بھائی کیلئے لڑکی ڈھونڈ رہے اگر کوئی اچھی سے لڑکی ہو تو ہمیں بتانا ، میں نے کہا ابھی آپ کی شادی نہیں ہوئی بھائی کی شادی بیچ میں کہاں سے آئی، اس نے کہاں کہ میں ایسے لڑکے کی تلاش کر رہی ہوں جس کے ماں باپ نہ ہو اور وہ اکیلا ہو، ملازم یا بڑا تاجر ہو وغیرہ وغیرہ ایسے شرائط سن کر میرے پاؤں تلے زمین نکلنے لگی تو میری زبان سے فوراً یہ الفاظ نکلے کہ پھر تو بھائی کی شادی بھی رہنے دو کیونکہ ابھی آپ کے والدین زندہ ہے ۔ یہ الفاظ سن کر وہ مجھے گھورنے لگی مگر کچھ کہہ نہ پائی اور چپکے سے دکان سے نکل گئی۔

ایک دوست کی شادی ایک دیندار لڑکی سے ہوئی ، لڑکی نے شادی کے بعد ہی خاوند کو مجبور کیا کہ ہم الگ رہے گے کیونکہ آپ کے ماں باپ کی خدمت کرنا مجھ پر فرض نہیں ہے ، لڑکا بھی اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا اور والدین اب اس عمر کو پہنچ چکے تھے اب وہ پوری طرح اولاد کے حسن سلوک کے محتاج تھے،لیکن کیا کریں لڑکے کی بیوی نے ہنگامہ برپا کیا اور لڑکے کو مجبوراً گھر چھوڑ کر کرایہ کے مکان میں رہنا پڑا اور کچھ سال یوں ہی گزر گئے مگر لڑکا اپنے والدین کی جدائی پر دل ملول تھا ، بیویوں کو تو حکم دیا گیا تھا کہ اپنے خاوند کو خوش رکھے اور خاوند کو خوش رکھنے کا بہترین ذریعہ انکے والدین سے حسن سلوک کرنا تھا مگر بہو بار بار یہ کہتی تھی میں شریعت کی پابند ہوں ۔ آخر کار ایک بزرگ نے فیصلہ سنایا بیٹی اگر آپ شریعت کی بات کر رہی ہو تو سنو شریعت نے تمہارے خاوند کو چار شادیاں کرنے کی اجازت دی ہے وہ دوسری شادی کریگا اور اس کو گھر پر رکھے گا، یہ سن کر بیوی کی جان ہی نکل گئی اور فوراً اسکے منہ سے نکلا کہ شریعت ہمیں ساس سسر کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین بھی کرتا ہے اور دوسرے ہی دن وہ خاوند کے گھر چلی گئی۔

عجیب سا معاملہ ہوتا لڑکیاں اپنے ساس سسر کے حسن سلوک تو نہیں کرتی مگر اپنے خاوند کو اپنے ماں باپ کی عزت کی تلقین کرتے ہیں ۔

قرآن مجید میں صلہ رحمی کی تاکید کی گئی ہے اور قطع رحمی سے روکا گیا ہے۔ صلہ رحمی کا مطلب ہے رشتے داروں کا خیال رکھنا، ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، وقتِ ضرورت ان کی مدد کرنا اور ان کے حقوق ادا کرنا۔ ایسا نہ کرنے کو قطع رحمی کہا جاتا ہے۔ رشتے داروں میں نسبی اور سسرالی دونوں طرح کے رشتے دار آتے ہیں۔ (الفرقان: 45) شوہر اور بیوی دونوں کی ذمہ داری ہے کہ اپنے نسبی اور سسرالی دونوں رشتے داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کریں اور ان کے ساتھ خوش گوار تعلقات رکھیں۔ قرآن مجید میں صلہ رحمی کرنے والوں کی تعریف و تحسین کی گئی ہے اور قطع رحمی کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”دانش مند لوگوں کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو برقرا رکھنے کا حکم دیا ہے انھیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بری طرح حساب نہ لیا جائے۔ (الرعد: 21) آگے قطع رحمی کرنے والوں کو ان الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے: ”رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں، جو ان رابطوں کو کاٹتے ہیں جنھیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہ لعنت کے مستحق ہیں اور ان کے لیے آخرت میں بہت بڑا ٹھکانا ہے۔(الرعد: 25) دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کو ”نقصان اٹھانے والے“ کہا گیا ہے۔ (البقرۃ: 27

واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ، صرف دو افراد کے بجائے دو خاندانوں کو آپس میں مربوط کرتا ہے، اس ایک رشتہ کی وجہ سے دو خاندان آپس میں ایک ہوجاتے ہیں، نکاح سے پہلے شوہر اور بیوی کے لیے جس طرح ان کا اپنا خاندان اپنا تھا، نکاح کے بعد شوہر کے لیے بیوی کا اور بیوی کے لیے شوہر کا خاندان بھی ان کا اپنا خاندان بن جاتا ہے، اور یہ رشتہ اصول وضوابط کے بجائے محبت، ہم دردی، ایثار اور اخلاقیات سے پلتا بڑھتا ہے، پروان چڑھتا ہے ، نکاح کے بعد عورت جب اپنے سسرال رخصت ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ اپنے ساس ، سسر کو اپنے حقیقی والدین کی طرح سمجھے، اور ان کی اسی طرح عزت و اکرام کرے جس طرح اپنے والدین کی کرتی تھی اور ہر قسم کی ایسی بات سے بچے جس سے اس کا اپنے سسرال کے ساتھ یا شوہر کا اپنے گھر والوں سے تعلق کم زور یا متاثر ہو، اور ہر اس طرح کے کام کرنے کی کوشش کرے، جس سے گھر میں باہم محبت کی فضا پیدا ہو، لہذا بیوی کو اگر اپنے شوہر کے سامنے گھر کی کوئی بات کرنی ہی ہو تو صرف وہی باتیں کرے جو اس کی اپنی ذات سے متعلق ہوں ، یا ان باتوں سے کسی قسم کی بدگمانی، جھگڑا، فساد کا اندیشہ نہ ہو، نیز جس طرح انسان حقیقی والدین کی باتیں دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے سے بچتا ہے، اسی طرح بہو کو اپنے ساس اور سسر کے ساتھ بھی یہ رویہ رکھنا چاہیے، شوہر کے سامنے ان کے والدین کی وہ باتیں کرنی چاہیے جس سے شوہر اور اس کے والدین کا تعلق مضبوط ہو اور محبت میں اضافہ ہو، اس سے شوہر کے دل میں بیوی کی بھی قدر پیدا ہوجائے گی، یوں گھر کا ماحول خوشگوار رہے گا ، اور شوہر پرسکون رہے گا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: