مجھے میرا مہر لوٹا دو!

یہ تقریباً دس سال پہلے کی بات ہے کہ نوگام کے ایک بزرگ محترم علی محمد بٹ صاحب نے مجھے تقسیم وراثت کے سلسلے میں اپنے ساتھ چلنے کو کہا، چونکہ جب ہم وہاں پہنچے تو محترم بٹ صاحب نے پہلے ہی گھر والوں سے کہا کہ تقسیم وراثت صرف شریعت کے مطابق ہی تقسیم ہوگی ،جس پر سارے اہل خانہ متفق ہوئے ۔ بہرحال جب تقسیم وراثت ہوئی اور ہر فرد کو اس کا حق مل گیا تو مرحوم کی ساٹھ سالہ بیوی نے کہا کہ میرے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے ، میرے ساتھ انصاف کیا جائے ۔
مجلس میں سارے لوگ حیران رہ گئے بھلا اس شرعی فیصلے میں نا انصافی والی بات کہاں سے آگی۔
محترم بٹ صاحب نے ان سے وضاحت طلب کی تو مذکورہ خاتون نے کہا کہ شادی کے بعد ہی میرے خاوند نے میرا مہر یہ کہہ کر مانگا کہ اس کے بدلے میں آپ کو فلاں جگہ چار کنال زمین دونگا مگر وہ زمین مجھے آج تک نہ ملی، محفل میں مرحوم کے بھائی نے اس بات کی تصدیق کی اور اسکے بعد نئے سرے سے وراثت کی تقسیم ہوئی ، پہلے مرحوم کی بیوی کو مہر کے چار کنال دئے گئے اور اس کے بعد باقی میراث عین شریعت کے مطابق تقسیم کی گئی۔
اس واقعہ سے مجھے معلوم ہوا کہ کوئی بھی بیوی اپنا مہر معاف نہیں کرتی بلکہ یہ تو صرف خاندانی اور رشتوں کا دباؤ ہوتا ہے کہ عورت مہر چھوڑنے پر مجبور ہوجاتی ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ میں نے قریباً پندرہ سال پہلے ایک کتاب میں پڑھا تھا ( واقعہ میں جو کردار تھے ان کے نام مجھے یاد نہیں رہے ) ایک عالم دین ایک نواب کے گھر دعوت پر گئے ، جب یہ لوگ دعوت سے فارغ ہوئے تو دونوں باتیں کرنے لگے اور باتوں باتوں میں نواب نے عالم دین سے کہا کہ میری بیوی نے مہر کی رقم مجھے شادی کے بعد ہی بخش دیا تھا کیونکہ اس وقت میں غریب تھا اور اب میں بفضل اللہ تعالیٰ اممالدار بن چکا ہوں۔ تو عالم دین جواب دیا مجھے لگتا ہے کہ آپ کی بیوی نے آپ کا مہر نہیں بخشا بلکہ یہ تو صرف آپکی غربت کا نتیجہ ہوگا۔ اس بات پر نواب متفق نہ ہوا ۔
عالم دین نے تجویز دی آپ اپنی بیوی کو ایک رقم دو اور اس سے کہو کہ یہ مہر کی رقم ہے اگر اس نے وہ رقم واپس کی تو واقعی اس نے مہر معاف کیا ورنہ نہیں۔ جب نواب نے ایسا ہی عمل کیا تو نواب کی بیوی نے وہ رقم لی اور اپنی الماری میں اپنی تحویل میں رکھا، اس طرح عالم دین نے نواب کی برسوں پرانی غلط فہمی دور کی۔
ہم میں سے بہت سارے لوگ ایسے ہیں جو بیوی کے مہر پر شعوری یا غیر شعوری طور قبضہ جمائے ہوئے ہیں اور تا عمر ان کا رویہ ایسا ہی ہوتا ، اکثر ایسا بھی ہوتا ہے لڑکی کو مہر میں جو سونے کی زیورات وغیرہ ملے ہوتے ، خاوند وہ زیورات بیچ کر یا تو اپنے کاروبار میں شامل کرتا ہے یا پھر زمیں خریدتا ہے مگر زمین کے کاغذات اپنے نام کرتا ہے اور کاروبار میں بھی بیوی کو کوئی حصہ نہیں دیتا ۔
نکاح کرنے کیلئے شوہر پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ بیوی کو مہر دے۔ شریعت نے مہر کی کوئی مقدار نہیں متعین کی ہے اور اسے زوجین کی مرضی پر چھوڑ دیا گیا ہے، لیکن شوہر کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ مہر خوش دلی سے ادا کرے اور بیوی کو اس کا مالک بنا دے۔ ہاں، بیوی اگر اپنی مرضی سے مہر نہ لے، یا اس کا کچھ حصہ معاف کردے تو اس کی اجازت ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

وَاٰ تُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحۡلَةً‌ ؕ فَاِنۡ طِبۡنَ لَـكُمۡ عَنۡ شَىۡءٍ مِّنۡهُ نَفۡسًا فَكُلُوۡهُ هَنِيۡٓـئًـا مَّرِیۡٓـــٴًﺎ ۞
( سورہ نساء آیت نمبر 4)
اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ﴿فرض جانتے ہوئے﴾ ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصّہ تمہیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھاسکتے ہو۔
مولانا مودودی رح اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں۔

حضرت عمر (رض) اور قا ضی شریح کا فیصلہ یہ ہے کہ اگر کسی عورت نے اپنے شوہر کو پورا مہر یا اس کا کوئی حصہ معاف کردیا ہو اور بعد میں وہ اس کا پھر مطالبہ کرے تو شوہر اس کے ادا کرنے پر مجبور کیا جائے گا، کیونکہ اس کا مطالبہ کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے مہر یا اس کا کوئی حصہ چھوڑنا نہیں چاہتی۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو “

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: