وہ جمعہ کے دن نماز پڑھتا ہے

بچہ ابتداء میں معصوم اور عن الخطا ہوتا ہے ، اس میں نہ برائی کی تمیز ہوتی ہے اور نہ نیکی کی یہ تو گھر کا ماحول ہی ہے جو بچے کو اچھا یا برا بناتی ہے۔
اگر ماں باب نمازوں اور دیگر عبادتوں کے پابند ہونگے تو بچے بھی خود بخود نماز پڑھنا سیکھ لیں گے۔
اس لئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی کچھ نمازوں( سنت و نوافل) کو گھروں میں ادا کرو تاکہ بچے بھی سیکھ لیں ، ایک حدیث پاک مطابق جس گھر میں اللہ کا ذکر ہو اور جس گھر میں اللہ کا ذکر نہ ہو ذندہ اور مردہ کی مانند ہے۔ نماز نور ہے پس اپنے گھروں کو اس نور سے منور کرو ، اپنے بچوں کو سات سال کی عمر سے ہی نماز کی تلقین کرتے رہو اور جب دس سال کے ہوجائے تو انہیں نماز نہ پڑھنے پر ڈانٹ ڈپٹ کرو اور اگر ضرورت پڑھے تو انہیں مارو بھی۔
پچھلے ہفتے جب ایک بزرگ نے ہمارے گاؤں کی مسجد میں ایک سات آٹھ ھ سالہ بچے سے کہا کہ آپ کا باپ نماز کیوں نہیں پڑھتا تو اس بچے نے معصوم زبان سے کہا کہ وہ جمعہ کے دن نماز پڑھتا ہے۔ یہ سن کر میرے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔
ہمارے سماج کی صورت حال اس وقت یہی ہے کہ لوگ نمازوں سے بھی غافل ہو رہے ہیں ۔ معاشرے کی اکثر آبادی بے نمازی ہے اور انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہوتا اور جب انہیں نماز کی یاد دہانی کراتے ہیں تو کہتے ہیں کہ دل صاف ہونا چاہئے ۔
ایک حدیث پاک میں ہمارے اس صورتحال کی عکاسی کی گئی ہے۔
عن ابی امامۃ الباھلی رضی اللہ عنہ عن رسول ﷲ ﷺ قال:
لینقضن عری الاسلام عروۃ عروۃ، فکلما انقضت عروۃ تشبت الناس بالتی تلیھا واولھن نقضاً الحکم وآخرھن الصلاۃ۔ (مسند احمد: 173 جلد اول)

سیدنا ابو امامہ باہلیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اسلام کے کنڈوں یعنی اسلام کے احکام کو ایک ایک کر کے گرایا جاتا رہے گا، جب ایک کنڈا گر جائے گا تو لوگ اگلے کنڈے کے درپے ہو جائیں گے، سب سے پہلے جس حکم کو توڑا جائے گا، وہ عدل ہو گا اور سب سے آخر میں نماز کو منہدم کر دیا جائے گا۔
سبحان اللہ! جہاں تک عدل و انصاف کا تعلق ہے تو کئی صدیوں سے اکثر مسلم آبادی میں بھی اس کے آثار مٹ چکے ہیں اور اب نوے فیصد سے زیادہ مسلمانوں نے نماز کو منہدم کردیا ہے، لیکن دھوکے کی بات یہ ہے کہ و بزعم خود پھر بھی کامل مسلمان ہیں۔
اس خطرناک صورت حال سے سبکدوشی کے لئے ضروری ہے کہ والدین دنیا میں اپنی ذمہ داریا ں پوری کریں۔ اپنی اولادکی تعلیم وتربیت کے فریضے کو نہایت خوش اسلوبی اور تربیت کے اصولوں کے مطابق انجام دیں۔ تو امید ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اولاد دنیا میں ان کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک، باعث سکون و راحت اور آخرت کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے گی۔ یعنی یہی اولاوالد ین کو جنت کے درجات پار کرانے کا سبب بن جائے گی۔

لیکن اگرخدانخواستہ اس ذمہ داری میں کوتاہی برتی گئی تو یہی اولاد کل قیامت کے دن ماں باپ کے خلاف کھڑی ہوسکتی ہے۔ اور بہت ممکن ہے کہ اولاد اپنی ناکامی کی وجہ والدین کو قراردیں کہ انہوں نے ہماری ٹھیک طرح سے تربیت نہیں کی تھی۔ اور والدین کو اس فریضے میں کوتاہی کے سبب عذاب میں مبتلاکیا جائے۔ باقی دنیا میں اس کا خمیازہ بھگتنا تو بہرحال یقینی ہے کہ بے تربیت اولاددنیا میں ہی انسان کے لئے باعث شرمندگی اورباعث اذیت بن جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ ( سورہ التحریم آیت نمبر 6)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بچاوٴ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں مولانا عبد الرحمن رقمطراز ہیں۔
یعنی مسلمانوں کو محض اپنی ذات کی اصلاح پر ہی اکتفا نہ کرلینا چاہیے بلکہ اہل و عیال پر بھی اتنی ہی توجہ دینا چاہیے اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی (کہ اس نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی تھی) امام بھی راعی ہے، اسے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے، اسے اپنی رعیت سے متعلق پوچھا جائے گا، عورت اپنے خاوند کے گھر کی راعی ہے، اسے اس کے متعلق پوچھا جائے گا (بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب قولہ تعالیٰ من بعد وصیۃ۔۔ ) اس لحاظ سے ہر مسلمان پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرے ورنہ اس سے باز پرس ہوگی۔
(تیسر القرآن)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: