اخلاص

اخلاص یعنی جو بھی نیک کام کریں اس میں صرف اللہ تعالیٰ کے تقرب ورضا و خو شنودی کا قصد رکھنا اور مخلوق کی خوشنودی ورضامندی یا اپنی کسی نفسانی خواہش کو (اس کام میں)ملنے نہ دینا یہی اخلاص ہے۔ خدا کی اطاعت گذاری میں،خدا کے سوا کسی اور چیز کو اس کا شریک نہ بنایا جائے،وہ چیز خواہ پتھر،یا مٹی کی مورت،یا آسمان و زمین کی کوئی مخلوق،یا دل کا تراشا ہوا کوئی باطل مقصود ہو،ہر کام میں ہماری اصل نیت اللہ کی خوشنودی ورضا کی طلب ہو، اسی سے اللہ تعالیٰ ہم سے خوش اور راضی ہو جائیں گے۔اور ظاہر ہے کہ جب اللہ ہم سے خوش اور راضی ہوتو پھر ہمارے دین ودنیا کی فلاح میںکیا شک ہے،ہر کام آسان ہوجائے گا،دنیا میں ہر دلعزیزی ملے گی اور کیا کچھ نہ ملے گا لیکن شرط یہ ہے کہ ہم جو کام بھی کریں اس میں ہماری غرض اور کچھ نہ ہو صرف اللہ کی رضااور خو شنودی کی طلب ہو۔قرآن کریم میں ہمیں یہی حکم ہوا ہے کہ ہم جو کام بھی کر یں اخلاص و خلوص نیت سے کریں۔چنانچہ فرمایا:’’حالانکہ نہیں حکم دیا گیا تھا انہیں مگر یہ کہ عبادت کریں اللہ تعالیٰ کی دین کو اس کے لئے خالص کرتے ہوے،بالکل یکسو ہوکر‘‘[القرآن،۹۸:۵]

اخلاص کے ساتھ جو عمل کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو،اس کا ثواب بہت بڑا ہے۔اسی لئے حدیث میں آپؐ نے معاذبن جبلؓ سے فرمایا’’اخلاص کے ساتھ عمل کرکہ اس میں تجھ کو تھوڑا ہی کافی ہوگا(رواہ الحاکم)۔ اسی واسطے حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ میرا صحابی اگر نصف مُد یعنی آدھ سیرجَو اللہ کی راہ میں خرچ کرے تو وہ دوسرے کے اُحد(پہاڑ)کے برابر سونا خرچ کرنے سے بہتر ہے۔بات یہ ہے کہ ان حضراتؓ کے اندر خلوص اور محبت اس قدر موجزن تھا کہ اوروں کے اندر اتنا نہیں اسی لئے ان کے صدقات و حسنات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ عمل میں اخلاص ہو تو اس کا اثر یہاں اِس دنیا میں بھی ظاہر ہوگا اور آخرت میں تو ضرور ہی اس کی قدر کی جائے گی۔اس بارے میں صحیح بخاری کی یہ حدیث سن لیجئیجو حدیث بخاری شریف میں پانچ مواقع پر آئی ہے ۔حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ نقل کرتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں سے پہلے بنی اسرائیل میں سے تین شخص سفر کررہے تھے ۔اثنائِ راہ میں بارش آگئی،وہ تینوں پہاڑ کی کھوہ(غار)میں پناہ لینے کے لئے داخل ہوگئے اتفاقاً پہاڑ کی اونچائی سے ایک بھاری پتھر لڑھک کر غار کے منہ پر آگرا اور اس کو ڈھانپ لیا۔(اب ان کی بے کسی و بیچارگی اور اضطراب و بیقراری کا کون اندازہ کرسکتا ہے، موت ان کے سامنے آتی تھی)

۔ اس وقت انہوں نے پورے خضوع و خشوع کے ساتھ دربارِ الٰہی میں دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائے،ہر ایک نے کہا کہ اس وقت ہر ایک کو اپنی خالص نیکی کا واسطہ خدا کو دینا چاہئے ،کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ اس مصیبت سے ہمیں نجات دے، تب ان میں سے ایک نے کہا خدایا تجھ کو خوب معلوم ہے کہ میں نے ایک مرتبہ ایک مزدور سے چند سیر چاولوں پر مزدوری کرائی تھی مگر کام کے بعد وہ مزدور(غصہ میں آکر) چلا گیا اور اس کی اجرت میرے ذمہ باقی رہ گئی۔فصل پر جب میں نے چاول کی کاشت کی تو اس کا حصہ بھی شامل کرلیا اور پیداوار پر اس کے حصہ کے چاولوں سے گائے بیل خرید ے۔پھر(ایک مدت کے بعد)وہ مزدور آیا اور اس نے اپنی مزدوری کا مطالبہ کیا میں نے کہا جاؤ وہ سب گائے بیل(جانور)ہنکا لے جا۔اس نے کہا میرے تو صرف ایک فرق(تین صاع)چاول تھے۔میں نے کہا وہ سب گائے بیل لے جا،وہ تیرے چاولوں سے خریدے گئے ہیں اور اس کو واقعہ سنایا ،وہ بہت خوش ہوا اورسب جانور لے گیا۔ پس اے خدا !اگر تیرے نزدیک میر ا یہ عمل صرف تیری خوشنودی اور حقوق العباد کی حفاظت پر مبنی تھا تو اس کی برکت سے ہماری اس مصیبت کو دور کردے ۔چنانچہ اس کی دعا کا یہ اثر ہوا کہ بھاری چٹان نے حرکت کی اور غارکے منہ سے کچھ ہٹ گئی اور کشاد گی پیدا ہوگئی۔اب دوسرے نے کہا خدایا تو داناوبینا ہے کہ میرے والدین بہت ضعیف اور ناتواں تھے ،اس لئے میرا یہ دستور تھا کہ اپنی بکریوں کا دودھ دھو کر شام کو سب سے پہلے ان کو پلاتا اور بعد میں اپنے اہل وعیال کو شکم سیر کرتا۔ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مجھ کو جنگل میں دیر ہوگئی دودھ لے کر گھر آیا تو والدین انتظار کرکے سو چکے تھے۔اہل و عیال بھوک سے مضطرب اور بیتاب تھے اور دودھ کے خواہش مند،مگر میں نے کہا کہ جب تک والدین اُٹھ کر نہ پئیں گے کسی کو دودھ نہیں ملے گا اور والدین کی نیند خراب نہ ہو اس لیے بیدار کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ تمام شب اسی طرح ان کے سرہانے دودھ لئے بیٹھا رہا کہ شاید درمیان میں بیدار ہوں اور بھوک ستائے مگر وہ صبح کو ہی بیدار ہوئے تب میں نے پہلے ان کو دودھ پلایا اور جب وہ سیراب ہوگئے تو بعد میں اہل و عیال کو دیا’’پس اے خدا! اگر میرا یہ عمل صرف تیری رضاء اور طاعتِ والدین کے اداء حق کے لیے تھا تو ہماری اس مصیبت کو ٹال دے،پتھر میں دوبارہ جنبش ہوئی اور چٹان اس درجہ ہٹ گئی کہ سامنے آسمان نظر آنے لگا،اب تیسرے شخص کی نوبت تھی اس نے کہا!الٰہی تو علیم و خبیر ہے کہ میں اپنی چچازاد بہن پر عاشق تھا اور اس کے وصل کے لیے بیتاب مگر وہ کسی طرح آمادہ نہیں ہوتی تھی ،بمشکل تمام میں نے اس کو سو درہم دے کر ورغلایا اور عملِ بدپر آمادہ کرلیا ۔جب میں اس کے قریب ہوا اور ہم دونوں کے درمیان کوئی حائل نہ رہا تو اس نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ’’بندۂ خدا!خدا کے خوف سے ڈر اور ناحق عصمت ریزی پر بے باک نہ بن ‘‘یہ سننا تھا کہ مجھ پر تیرا خوف غالب آیا اور میں اس سے الگ ہوگیا اور سو درہم بھی اسی کو بخش دیے،اے اللہ !اگر میرا یہ عمل خالص تیری رضا اور تیرے خوف کے پیشِ نظر تھا تو ہماری اس آفت کو دور کر اور ہم کو اس سے نجات دے۔اس کے بعد فوراً چٹان حرکت میں آئی اور غار کے دہانہ پر سے لڑھک کر نیچے جارہی اور وہ تینوں اسرائیلی اس مصیبت سے نجات پاکر مسرت و شادمانی کے ساتھ اپنی منزل پر روانہ ہوگئے۔‘‘ان کی خالص نیکی کیا خوب کام آئی!خالص خدا کے لئے عمل کرنے والوں کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔یہ حدیث اپنے اندر اخلاقی تعلیم کا ایک بحرِ زخار سمائے ہوئے ہے۔اول یہ کہ ماں باپ کی خدمت اور فرمانبرداری کرنے والے،لوگوں کے حق کو صحیح صحیح ادا کرنے والے،اور سارے سامان ہوتے ہوے بھی بدکاری سے بچنے والے کی دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ دوم یہ کہ سب سے بڑا وسیلہ جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی جاتی ہے وہ اپنے خلوص بھرے اعمال ہیں۔امام قسطلانی ؒ نے کہا ان تینوں میں افضل تیسرا شخص تھا۔امام غزالیؒ نے کہا شہوت آدمی پربہت غلبہ کرتی ہے اور جو شخص خدا کے خوف سے سب سامان ہوتے ہوے زنا سے باز رہے اس کا درجہ صدّیقین میں ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسفؑ کو صدیق فرمایا کیونکہ انہوں نے زلیخا کے اصرار پر بھی بُرا کام کرنا منظور نہ کیا اور سخت تکلیفیں دنیا کی گوارا کیں(اور اسی پاکدامنی اور راستی کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سر زمینِ مصر کے باد شاہ بنائے گئے)۔ حضرت علّامہ وحید الزماںؒ فرماتے ہیں کہ ایسا (یعنی تیسرا)شخص بموجب نصِ قرآن بہشتی ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں’’اور جو ڈرتا رہا اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے اور(اپنے)نفس کو روکتا رہا(ہر بری)خواہش سے ،یقینا جنت ہی اس کا ٹھکانا ہوگا‘‘۔ [۷۹:۴۰۔۴۱] ۔ (تیسیرالباری

جو عمل اخلاص سے کیا جاتا ہے اس میں ایسی جرأت،مستعدی اور جوش ہوتا ہے کہ شیطان ایسے شخص پر غلبہ نہیں پاسکتا اور نہ ہی اسے گمراہ کرسکتا ہے،شیطان خود کہتا ہے’’اور میں ضرور گمراہ کروں گا ان سب کو سوائے تیرے ان بندوںکے جنہیں ان میں سے چن لیا گیا ہے‘‘ [۱۵:۳۹۔۴۰] (یعنی تیرے مخلص بندے، وہ بندے جن کو تو نے اپنی عبادت و طاعت کیلئے چن لیا اور شکوک و شبہات کی آلود گیوں سے پاک وصاف رکھا)،اس سے معلوم ہوا کہ شیطان سے چھوٹنے کا راستہ عمل میں اخلاص ہے۔اخلاص ایسی نیک خصلت ہے کہ اس کی برکت سے آدمی کئی بد خصلتوں مثلاً بغض،کینہ،عداوت و عنادسے محفوظ رہتا ہے ۔چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جن کے ہوتے ہوئے مرد مسلمان کے دل میں( بدخصلت مثلاً)بغض داخل نہیں ہوتا:(۱)اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے عمل کرنا،(۲)مسلمانوں کی بہتری کا خواہش مند رہنا، (۳) جماعت کے ساتھ رہنا۔[ترمذی]

عمل میں اخلاص نہ ہو تو اس کا نتیجہ بہت بُرا ہے۔نہ یہاں کچھ ملے گا اور نہ وہاں۔چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا کہ قیامت کے روز جو لوگ اول پوچھے جائیں گے،تین شخص ہوں گے۔ ایک وہ شخص کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو علم دیا ،اس سے خدائے تعالیٰ سوال فرمائے گاکہ تو نے اپنے علم سے کیا کیاوہ کہے گا کہ الٰہی دن رات میں اسی کی خدمت کرتا تھا۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹ کہتا ہے اور فرشتے کہیں گے کہ تو جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگ یوں کہیں کہ ’ فلاں شخص عالِم ہے تو یہ تو (تمہاری خواہش کے مطابق دنیا میں)کہا گیا۔دوسرا وہ شخص کہ جس کو خدائے تعالیٰ نے مال دیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ میں نے تجھ پر انعام کیا تو نے کیا کیا وہ عرض کرے گا کہ الٰہی رات دن میں صدقہ دیا کرتا تھااللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے اور فرشتے بھی کہیں گے کہ جھوٹ کہتا ہے بلکہ تو نے یہ ارادہ کیا تھا کہ لوگ یوں کہیں گے کہ فلاں شخص سخی ہے سو یہ کہا گیا۔تیسرا وہ شخص جو خدا کی راہ میں ماراگیا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے کیا کیا ،وہ عرض کرے گا الٰہی تو نے جہاد کا حکم دیا تھا اس لیے میں لڑایہاں تک کہ مارا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے اور فرشتے بھی اسکو جھٹلائیں گے اور کہیں گے بلکہ تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ کہیں کہ فلاں شخص بہادر ہے تو یہ کہا گیا۔اس حدیث کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ پھر آنحضرت ؐ نے میری ران پر ایک لکیر کھینچی اور فرمایا کہ اے ابو ہریرؓہ! سب سے اول ان ہی تین شخصوں سے آتشِ جہنم بھڑکائی جائے گی(احیاء العلوم) یعنی ان لوگوں میں اخلاص نہ تھا ،بلکہ یہ دکھاوے اور نمود کیلئے عمل کرتے تھے۔اس لئے ان کو کچھ ثواب نہ ملا بلکہ ریا کی سزا میں الٹا عذاب بھگتنا پڑا۔

یہاں بھی یہی ضابطہ ہے،یعنی دنیا میں بھی اخلاص ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہے،کوئی بظاہر نیکی کا کتنا ہی بڑا کام کرے لیکن اگر اس کی نسبت یہ معلوم ہوجائے کہ اس کا مقصد اس کام سے کوئی ذاتی غرض یا محض دکھاوا اور نمائش تھا تو اس کام اور خود اس شخص کی قدر و قیمت فوراً نگاہوں سے گر جائے گی۔

یہاں یہ بھی جاننا چاہئے کہ اخلاص کے وجوداً اور عدماً تین درجے ہیں۔ایک یہ کہ اگر عمل سے مقصود صرف ریاو نمائش اور طلبِ شہرت ہو تو یہ تو با کل اخلاص کے خلاف ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے عمل پر کوئی ثو اب نہ ہوگا بلکہ وہ موجب عذاب وغضب ہوگا۔دوسرے یہ کہ عمل خاص لوجہ اللہ،یعنی صرف اللہ کی خوشنودی کے لئے ہو،یہی غایتِ اخلاص ہے اور یہی مقصود اور مرتبۂ کمال ہے اور یہ عمل یقیناً مستحقِ ثواب ہے۔ ان دونوں کی مثال یوں سمجھئے کہ مثلاً ایک شخص نماز صرف اس لئے اداکرتا ہے کہ اس سے خدا وند کریم راضی ہو،اِس کے سوا اور کوئی نیت نہ ہو۔یہ اخلاص کا درجۂ کمال ہے ۔ایک یہ صورت ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے کسی دوسرے شخص کو دکھانے کا خیال ہو کہ فلاں شخص اس کا خشوع وخضوع دیکھ کر اسے نیک بخت سمجھے اور اس کو نظرِ تعظیم سے دیکھے ،اس کامعتقد ہوجائے ،یہ اخلاص کے بالکل خلاف ہے۔

تیسرا درجہ یہ ہے کہ عمل مخلوط ہو یعنی جس میں آمیزش ریا،اور نفس کے حظوں کی ہو، تو اس میں تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر باعثِ دینی (یعنی قصدِ صحیح)اور باعثِ ِنفسی(قصدِ فاسدہ) دونوں برابر ہوں تو دونوں کی کچھ تاثیر نہ رہے گی ۔ایسے عمل کا نہ ثواب ہی ہوگا نہ عذاب(مطلب یہ ہے کہ وہ عمل تو بہرحال ضائع ہی ہوا) اور اگر باعثِ ریا غالب اور قوی ہوگا تو اس عمل سے کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ مضر پڑے گا اور موجبِ عذاب ہوگا۔ہاں اس کا عذاب اس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگا،جس کا باعث محض ریا و نمائش ہو اور اگر قصد تقرب الی اللہ دوسرے باعث کی نسبت قوی تر ہوگا تو جس قدر قوت باعث دینی یعنی تقرب کی زیادہ ہوگی اسی قدر اس کا ثواب ہوگا۔ اس کو مثال سے یوں سمجھئے کہ مثلاً کسی کو حرارت کی چیزوں سے ضرر ہوتا ہے اور اس نے گرم چیزیں کھائیں پھر ان گرم چیزوں کی قوت کی مقدار پر سرد چیزوں کا استعمال کیا تو دونوں کے کھانے کے بعد ایسی کیفیت ہوگی کہ گویا کوئی چیز کھائی ہی نہیں اور اگر دونوں میں سے کوئی غالب ہوگی تو مقدار غلبہ کی ضرور تاثیر کرے گی تو جس طرح کہ کوئی ذرہ کھانے پینے کی دوا کا جسم میں خدائے تعالیٰ کی عادت کے بموجب بدون تاثیر کے نہیں رہتا اسی طرح کوئی ذرہ خیر و شرکا بھی تلف نہیں ہوتا ،دل میں روشنی یا تاریکی کا اثر ضرور پہنچاتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے قریب یا دور ضرور کرتا ہے۔ البتہ انسان جب کوئی عمل کرتا ہے اسے خود یہ علم نہیں ہوتا کہ اس کے عمل میں ریا و نمائش کا پلڑا بھاری ہے یااخلاص کا، اسلئے اول تو کوشش کرنی چاہئے کہ عمل میں غایت درجہ کا اخلاص پیدا ہو، دوم یہ کہ عمل کے بعد ہمیشہ متردد رہنا چاہے کہ آیا میرا عمل مقبول اور مستحق ثواب بھی ہے۔کیونکہ کئی بار عبادت میں کوئی ایسی آفت(مثلاً ریا،عجب،خود پسندی،شہرت و جاہ طلبی وغیرہ)پیش آتی ہے کہ جس کا وبال ثواب کی نسبت زیادہ ہوتا ہے لیکن باوجود ان سب آفتوں کے یہ بھی نہ چاہئے کہ آفتِ ریا کے خوف سے عمل کو چھوڑ دیا جائے،یہ بھی شیطان کا فریب ہے کیونکہ اُس کی غایت آرزواور مقصد یہی ہوتا ہے کہ آدمی کو عمل نہ کرنے دے۔اگر ایسی آفتوں کے ڈر سے عمل چھوڑ دیا جائے تو شیطان جیت جائے اور خوشیاں منانے لگے،کیونکہ جب عمل ترک کردیا جائے تو عمل اور اخلاص دونوں جاتے رہیں گے۔[احیاء العلوم

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
%d bloggers like this: