اسلام اور خدمت خلق

دوسری قسط


اعجاز جعفر

خدمت خلق کے تقاضے۔
1) اخلاص کا اہتمام۔
ہمارے ہر کام میں اخلاص ہونا لازمی ہے کیونکہ کسی کام کے پیچھے جو محرک ہو ہمیں اسی محرک کے بنا پر جزا و سزا ملے گی۔ اگر کام کے پیچھے رضا الٰہی ہو تو ٹھیک ورنہ ریا کاری بڑے بڑے اعمال کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ  ( بخاری حدیث نمبر 1)
کہ تمام اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔

جو لوگ  اللہ کی محبت اور رضا کی خاطر مخلوق خدا کو کسی قسم کا فایدہ پہنچاتے ہیں اور ان سے کو اجر یا شاباشی بھی طلب نہیں کرتے انہی کے متعلق اللّٰہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ۞ اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا‏ ۞
(الانسان ۔ آیت نمبر 8-9)
اور اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں،(اور اُن سے کہتے ہیں کہ) ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ۔
مگر جب نیتیں بگڑتی ہے ، غریبوں اور مسکینوں سے دل متنفر ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمارے مال و زراعت کو تباہ کر دیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے سورہ قلم ( آیت نمبر 17تا 33) میں ایک باغ والوں کو واقع بیان کیا ہے جس کا بہترین خلاصہ مولانا عبد الرحمن کیلانی نے اپنی تفسیر “تیسر القرآن” میں بیان کیا کہ:
“کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ ہمارا باپ تو ساری عمر اس باغ کی فصل کو ادھر ادھر تقسیم کرکے اپنی کمائی یوں ہی لٹاتا رہا اور زندگی بھر مفلس ہی رہا۔ اب کے یہ ریت ختم کردینا چاہیے۔ باغ ہمارا ہے اور اس پر ہمارا ہی حق ہے چناچہ انہوں نے آپس میں یہ طے کرلیا کہ جب کٹائی کا موقع آئے تو راتوں رات ہی کرلی جائے۔ تاکہ نہ غریب مسکین آئیں، نہ ہمیں تنگ کریں اور نہ ہم برے بنیں۔ انہوں نے اس بات پر قسمیں کھائیں کہ ایسا ہی کریں گے اور انہیں اپنی اسکیم پر اس قدر وثوق تھا کہ انہوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی۔
جب کٹائی کا وقت آگیا تو وہ راتوں رات، خوشی خوشی، اچھلتے کودتے اپنے باغ کی طرف روانہ ہوئے ادھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ اسی رات سخت آندھی کا طوفان آیا۔ جس میں آگ تھی۔ آندھی کے ذریعہ وہ آگ باغ کے درختوں تک پہنچ گئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہیں جلا کر راکھ کرگئی۔ آن کی آن میں سارا باغ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ جب یہ عقل مند بیٹے وہاں پہنچے تو وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ انہیں وہاں باغ نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ سوچنے لگے کہ ہم شائد رات کے اندھیرے میں کسی غلط جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر جب کچھ حواس درست ہوئے تو حقیقت ان پر آشکار ہوگئی کہ ان کی نیت کا فتور آندھی کا عذاب بن کر ان کے باغ کو بھسم کر گیا ہے۔ اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ان کے منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو۔ اسے ہر وقت یاد رکھو اور اسی سے خیر مانگو۔ مگر ان بھائیوں میں سے کسی نے بھی منجھلے بھائی کی طرف توجہ نہ دی تو ناچار اسے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔ اور وہ ملامت بھی اس طرح کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو کہتا کہ تم ہی نے یہ ترغیب دی تھی دوسرا کہتا کہ یہ مشورہ تو تمہارا تھا مگر اب پچھتانے سے کچھ بن نہ سکتا تھا۔ جو کچھ ہونا تھا وہ ہوچکا تھا۔
باپ کو اس کی سخاوت اور دوسروں سے ہمدردی کا یہ صلہ ملتا رہا کہ اسی کا باغ سب سے زیادہ پھل لاتا تھا اور جتنا کچھ وہ دوسروں پر خرچ کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اسے مہیا فرماتا۔ مگر جب بیٹوں پر بخل اور حرص غالب آئی تو اس کا ثمرہ یوں ملا کہ نیت کے فتور نے مجسم طوفان کا روپ دھار کر سارا باغ ملیا میٹ کردیا۔ اس وقت نہ زمین کی زرخیزی کام آئی، نہ ان کی کوئی تدبیر، اس واقعہ سے یہ بات از خود واضح ہوجاتی ہے کہ دوسروں سے ہمدردی اور اچھے سلوک کی بنا پر اگر اللہ تعالیٰ نادیدنی وسائل کے ذریعہ رزق فراہم کرسکتا ہے تو نیت میں فتور آنے پر ایسے ہی نادیدنی وسائل سے دیئے ہوئے رزق کو چھین بھی سکتا ہے۔ آخر سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں۔ مگر اب بھی ہم اپنے پروردگار سے ناامید نہیں کیا عجیب ہے کہ وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کردے”

2)  احسان اور بدلہ نہ چاہنا۔

بہت سے لوگ بندگان خدا کی خدمت تو کرتے ہیں مگر اس کے پیچھے ان کے ذاتی اغراض ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبۡطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالۡمَنِّ وَ الۡاَذٰی۔ (بقرہ 264)
اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور تکلیف پہنچا کر ضائع مت کرو۔
مولانا محسن علی نجفی اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہے کہ:
“احسان جتانا، بدخصلت، گھٹیا اورکم ظرف ہونے کی علامت ہے۔ احسان جتانے والے کی نیکی درحقیقت احسان نہیں، بلکہ ایک سودے بازی ہے تاکہ کوئی مفاد حاصل کیا جا سکے۔ کم ازکم یہی کہ اپنی بڑائی منوائی جائے۔ اللہ کے ہاں ایسے صدقات کا برباد اور باطل ہونا ایک طبیعی امر ہے۔
اسی طرح دکھاوے کے طورپر خرچ کرنا بھی ایک قسم کی سودے بازی ہے، جس کے عوض شہرت کا حصول مطلوب ہوتا ہے۔ یہ بھی حقیقی انفاق نہیں ہے۔ لہٰذا ریاکار کے انفاق کا باطل اور اکارت ہونا بھی ایک طبیعی امر ہے”
اُس حدیث پاک کو بھی پیش نظر رکھیں جس میں رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ایک ریاکار عالم ، مجاہد اور سخی کو جہنم کی وعید سنائی۔ ( مسلم – 4923 ، نسائی -3139، السلسلۃ الصحیحہ -2062،مسند احمد -9714، مشکوٰۃ- 205)

3) سائلوں کے ساتھ حسن سلوک۔

اگر ہمارے پاس کوئی سائل بن کر آتا ہے تو ہمارے سامنے دو صورتیں ہونگی یا تو ہم اسکو کچھ دے کر رخصت کرینگے یا نرمی سے اسے معذرت کرینگے۔ سائل کو جھڑک دینا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡهَرۡؕ ۞  ( سورہ ضحٰی۔10)
اور سائل کو جھڑکی نہ دیں۔
ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ:

قَوۡلٌ مَّعۡرُوۡفٌ وَّمَغۡفِرَةٌ خَيۡرٌ مِّنۡ صَدَقَةٍ يَّتۡبَعُهَاۤ اَذًى‌ؕ وَاللّٰهُ غَنِىٌّ حَلِيۡمٌ ۞ (بقرہ – 263)
ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھے دکھ ہو اللہ بے نیاز ہے اور بردباری اُس کی صفت ہے
مولانا مودودی رح اس آیت کی تفسیر میں رقمطراز ہیں کہ:
اللہ تعالیٰ چونکہ خود بردبار ہے، اس لیے اسے پسند بھی وہی لوگ ہیں، جو چھچورے اور کم ظرف نہ ہوں، بلکہ فراخ حوصلہ اور بردبار ہوں۔ جو خدا تم پر زندگی کے اسباب و وسائل کا بےحساب فیضان کر رہا ہے اور تمہارے قصوروں کے باوجود تمہیں بار بار بخشتا ہے، وہ ایسے لوگوں کو کیونکر پسند کرسکتا ہے، جو کسی غریب کو ایک روٹی کھلادیں، تو احسان جتا جتا کر اس کی عزت نفس کو خاک میں ملا دیں۔ اسی بنا پر حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو قیامت کے روز شرف ہم کلامی اور نظر عنایت سے محروم رکھے گا، جو اپنے عطیے پر احسان جتاتا ہو”۔

4) احساس برتری سے پرہیز۔

انفاق کے سلسلے کی ایک بڑی عام آفت احساس برتری بھی ہے ۔ جو شخص اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم یا اپنے مذہب کیلئے کچھ خرچ کر سکے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ لوگوں کے ہاتھ اسکے آگے پھیل رہیں ہیں اور بہت سے ضرورت مند لوگ اسکی طرف رجوع کرتے ہیں تو اسکے دماغ میں بڑائی اور برتری کی ہوا سما جاتی ہے وہ اپنے آپ کو دینے کی پوزیشن میں پاکر لینے والوں کے مقابل اپنے آپ کو بہت ارفع خیال کرنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخۡتَالٍ فَخُوۡرٍۚ ۞
اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔
“مختال کے معنی ہیں وہ شخص جو اپنی دانست میں اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتا ہو۔”( تفہیم القرآن)
مگر مومن کی شان نرالی ہوتی ہے جب وہ کسی کو کچھ دیتا ہے تو اس کا دل خدا کے آگے جھکتا ہے اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا، بلکہ اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہےکہ اس نے اس کو دینے کے لائق بنایا۔

5) امانت داری

خدمت خلق کا اہم تقاضا امامت و دیانتداری ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
وَالَّذِيۡنَ هُمۡ لِاَمٰنٰتِهِمۡ وَعَهۡدِهِمۡ رٰعُوۡنَ ۞ ( معارج ۔ 32)
جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں.
اگر ہم کسی کی امداد کرتے ہیں تو اس پورے کام کو رازداری میں رکھے اور امانت داری کا مظاہرہ کرکے اسکی عزت نفس کو مجروح نہ ہونے دیں۔

6)  کام کی ابتدا اپنی ذات سے۔

ایک انگریزی مقولہ ہے۔ charity begins at home یعنی خیرات اپنے گھر سے شروع کرو ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لِمَ تَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا تَفۡعَلُوۡنَ ۞ ( الصف۔ 2)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

خدمت خلق کے میدان میں ایک فرد سے لے کر، مسلم جماعتوں سے لے کر اور رفاعی و فلاحی اداروں کو مشن کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ کیونکہ غریبوں، مسکینوں اور مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنا ہمارا فرض منصبی ہے۔
ولسلام۔

وہ کتابیں جن سے استفادہ کیا گیا۔

1) تفہیم القرآن
2) بیان القرآن
3) الکوثر فی تفسیرِ قرآن
4) تیسر القرآن
5) بخاری شریف۔
6) مسلم شریف
7) ترمذی شریف
8) ابوداؤد
9) نسائی شریف
10) مسند احمد
11) السلسلۃ الصحیحہ
12) معارف الحدیث
13) تفہیم الحدیث
14) سید انسانیت۔ نعیم صدیقی
15) اسلام اور خدمت خلق۔ شیخ ولی محمد
16) زندگی نو شمارہ اپریل 2019

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

Create your website with WordPress.com
Get started
<span>%d</span> bloggers like this: